Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2137

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كتَابِ اللّٰهِ فَلَهٗ بِهٖ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أقوْلُ: الم حَرْفٌ، أَلْفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيْمٌ حَرْفٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، غَرِيْب إِسْنَادًا.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول: الم حرف، ألف حرف، ولام حرف، وميم حرف". رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح، غريب إسنادا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو کتاب اللہ قرآن کریم کا ایک حرف پڑھے ۱؎تو اسے ایک نیکی اور نیکی کا دس گنا ۲؎میں نہیں کہتا کہالمایک حرف ہے۳؎بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف اور میم ایک حرف۴؎ترمذی دارمی،ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث اسناد سے حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ یہاں حرف سے مراد وہ حرف ہے جو جدا جدا پڑھا جائے لہذاالٓـمٓتین حرف ہیں۔چنانچہ الف ایک حرف لام ایک حرف اور میم ایک حرف مرقات۔ مگر قوی تر یہ ہے کہ حرف سے مراد مطلقًا حرف ہے علیحدگی کے قابل ہوں یا نہ ہوں کیونکہ حدیث پاک میں کوئی قید نہیں،لہذا قرآن کریم میں لفظ اللہ پڑھنے سے چالیس نیکیاں ملیں گی خیال رہے کہ قر آن پاک میں خبیث چیزوں کے نام بھی ہیں جیسے ابی لہب،ابلیس شیطان،خنزیر،وغیرہ مگر ان ناموں کی تلاوت پر بھی ثواب اسی حساب سے ہوگا کہ یہ حروف یا ان کے ترجمے برے نہیں،بلکہ ان کے مصداق خبیث ہیں یہ تحقیق خیال میں رکھی جائے۔
۲
؎اس فرمان میں اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"یہ تو ادنی ثواب ہے، آگے رب تعالٰی کا فضل ہماری شمار سے باہر ہے"وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔مرقات میں فر مایا کہ یہ ثواب تو عام تلاوتوں کا ہے،مکہ معظمہ و مدینہ میں تلاوت کا ثواب اس حدیث سے معلوم کر و کہ مکہ معظمہ میں ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ ہے اور مدینہ پاک میں پچاس ہزار۔
۳
؎چونکہ عربی میں حرف،حرف معانی،حرف مبانی، یعنی حرف ہجاء اور جملہ مفیدہ مطلقًا کلمہ سب کو ہی کہا جاتا ہے اسی لیے حضورانور صلی اللہ علیہ و سلم نے خود یہ تفسیر فرمائی۔
۴
؎الف،لام،میم کو حرف فرمانا مجازًا ہے ورنہ یہ حرفوں کے نام یعنی اسمائے حروف ہیں اس میں لطیف اشارہ اس طرف ہے کہ الف میں تین حرف ہیں،ا،ل،فمگر اس کو ہم ایک حرف ہی مانتے ہیں کہ قرآنی تلاوت میں یہ ایک حرف ہوکر آتا ہے،اگرچہ اس کے اجزا تین ہیں بعض شارحین نے کہا کہالم تر کیفمیں الم کی تیس نیکیاں ہیں اور"الٓـمّٓ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ"میںالٓـمّٓکی نوے نیکیاں ہیں،کیونکہ اس میں حرف نو ہیں اسمائے حروف اگرچہ تین ہیں مگر یہ قول اس حدیث کے خلاف ہے کیونکہ مکتوبی یعنی لکھے ہوئے حرف مراد ہیں نہ کہ مقروئی یعنی پڑھے ہوئے حر ف اور مکتوبی حرف سورۂ فیل و بقرہ میں یکساں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2137