Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2119

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تَجْعَلُوْا بِيُوْتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مَنَ الْبَيْتِ الَّذِيْ تُقْرَأ فِيْهِ سُوْرَةُ الْبقَرَةِ! . رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا تجعلوا بيوتكم مقابر، إن الشيطان ينفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة! . رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جائے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی گھروں میں مردے دفن نہ کرو کہ یہ تو خصوصیت انبیاء ہے یا اپنے گھروں کو ذکر اللہ سے خالی نہ رکھو جیسے قبرستان خالی ہوتا ہے ایسے گھر قبرستان ہیں اور وہاں کے باشندے مردے دوسرے معنے زیادہ موزوں ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ خیال رہے کہ مؤمن مردے اپنی قبروں میں ذکر اللہ کرتے ہیں،مگر وہ ذکر ہم نہیں سنتے،ہم کو قبرستان سنسان معلوم ہوتا ہے اسی لیے یہ ار شاد ہوا،لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲
؎یعنی شیاطین کا سرگروہ ابلیس اس گھر سے دور رہتا ہے یا سورۂ بقر پڑھتے وقت قریں شیطان دور رہتا ہے اگرچہ بعد میں آجائے یا اس گھر کے باشندوں کو وہ جنت سے بہکا نہیں سکتا،انہیں بے دین بے ایمان نہیں بناسکتا،ان شاءاللهلہذا حدیث واضح ہے۔ خیال رہے کہ شیطان کو دفع کرنیکی یہ تمام تدابیر ہیں ،نفس امارہ ان سے نہیں مرتا اس کی موت اس کی مخالفت سے ہے اسی لیے اگرچہ رمضان میں شیطان قید ہوتا ہے مگر لوگ گناہ کرتے ہیں نفس امار ہ موجود ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2119