Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2177

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِيْ رَبَاحٍ قَالَ: بَلَغَنِيْ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ قَرَأَ يس فِيْ صَدْرِ النَّهَارِ قُضِيَتْ حَوَائِجُهٗ" رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ مُرْسَلًا.

وعن عطاء بن أبي رباح قال: بلغني أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "من قرأ يس في صدر النهار قضيت حوائجه" رواه الدارمي مرسلا.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ابن ابی رباح سے ۱؎فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو شروع دن میں سورہ یٰس پڑھ لے اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی ۲؎(دارمی مرسلًا)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدر تابعی بے مثل عالم اور بے نظیر فقیہ تھے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے بڑا تو کیا ان جیسا عالم وفقیہ نہ دیکھا،سیا رنگ،ایک آنکھ،چپٹی ناک،ایک ہاتھ شل تھا،پاؤں سے لنگڑے تھے،آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے،اٹھاسی سال عمر پائی ۱۱۵ھ میں وفات ہوئی،امام احمد ابن حنبل فرماتے ہیں اگر علم نسب یا دوسری خصوصیات سے ملتا توعطاء کو نہ ملتا کہ ان میں کوئی ظاہر خصوصیت نہ تھی مگر علم کے خزانے ان کے سینے میں تھے پاک ہے وہ جس کی عطاء کسی کے کمال پر موقوف نہیں۔شعر
داد حق را قابلیت شرط نیست بلکہ شرط قابلیت داد اوست
آپ نے حضرت ابن عباس،ابوہریرہ،ابوسعید خدری،جابر ابن عمر،عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے احادیث لیں اور ان سے فیوض حاصل کئے۔
۲
؎بعض بزرگ نماز فجر کے بعد سورہ یٰس کی تلاوت کرتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے،یہ عمل نہایت مجرب ہے اس کا عاملان شاء اللهکبھی فقر و فاقہ یا دیگر آفات میں نہ پھنسے گا۔دفع حاجات کے لیے یہ سورہ اکسیر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2177