Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2185

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا عَنِ النَّبِيِّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بُنِيَ لَهٗ بِهَا قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَ عِشْرِيْنَ مَرَّةً بُنِي لَهٗ بِهَا قَصْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ قَرَأَهَا ثَلَاثِيْنَ مَرَّةً بُنِيَ لَهٗ بِهَا ثَلَاثَةُ قُصُوْرٍ فِي الْجَنَّةِ". فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: وَاللّٰهِ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِذًا لَنُكْثِرَنَّ قُصُوْرَنَا. فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "اللّٰهُ أَوْسَعُ من ذٰلِكَ". رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ.

وعن سعيد بن المسيب مرسلا عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "من قرأ قل هو الله أحد عشر مرات بني له بها قصر في الجنة، ومن قرأ عشرين مرة بني له بها قصران في الجنة، ومن قرأها ثلاثين مرة بني له بها ثلاثة قصور في الجنة". فقال عمر بن الخطاب: والله يا رسول الله! إذا لنكثرن قصورنا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "الله أوسع من ذلك". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے ارسالًا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو قل ہواحد دس۱۰ بار پڑھےاس کے لیے جنت میں محل تیار کرے گا اور جوبیس بار پڑھےاس کی برکت سے جنت میں دو محل بنائے گا اور جو اسے تیس بار پڑھےاس کی برکت سے جنت میں تین محل تیار کرے گا ۱؎حضرت عمر ابن الخطاب نے عرض کیا یارسولتب توکی قسم ہم اپنے محل بہت بنوالیں گے ۲؎رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایااس سے بھی زیادہ وسعت والا ہے۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ ہر دس بار پر ایک بے مثل محل کا عطیہ ہے،یہ تکرار اس لیے مذکور ہوئی کہ کوئی شخص یہ نہ خیال کر لے کہ محل کی عطا صرف پہلے دس بار پر تو ہے،بعد میں نہیں،وسعت عطا ظاہر فرمانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جتنے دہا کے۱۰ پڑھو گے اتنے ہی محل پاؤ گے۔
۲
؎یہ عرض معروض تعجب کے طور پر ہے کہ اگر رب کی عطا کا یہ حال ہے تو ہم میں سے ہرشخص خوب تلاوت سورۂ اخلاص کیا کرے گا اور خوب محل بنوائے گا۔
۳
؎یعنی اے عمر تم اس عطاء پر تعجب نہ کرو،رب کی جنت بہت وسیع ہے اور اس کی عطاء بہت زیادہ اگر تمام انسان ایمان لاکر ہزارہا بار روزانہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کیا کریں تو ہر ایک کو اسی حساب سے جنتی محل عطا فرمائے گا اور اس کے خزانوں میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم رب تعالٰی کی عطا کے مظہر اتم ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض موقعہ پر معمولی خدمت پر جنت بخش دی۔شعر
جھولیاں کھولےہوئے یونہی نہ دوڑےآتے ہم کو معلوم ہے دولت تری عادت تیری

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2185