Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2179

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّهٗ قَالَ: إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا، وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ، وَإِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ لُبَابًا، وَإِنَّ لُبَابَ الْقُرْآن الْمُفَصَّلُ. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن عبد الله بن مسعود أنه قال: إن لكل شيء سناما، وإن سنام القرآن سورة البقرة، وإن لكل شيء لبابا، وإن لباب القرآن المفصل. رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدابن مسعود سے انہوں نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک بلندی ہے اور قرآن کی بلندی سورۂ بقر ہے ۱؎اور ہر چیز کا ایک خلاصہ ہے اور قرآن کا خلاصہ مفصّل ہے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اونٹ کا حسن اونچے کوہان سے ہے مسجد کا حسن اونچے میناروں سے ہے اور قرآن کا حسن سورۃ بقرہ سے ہے کہ اکثر احکام شرعیہ اسی سورۃ میں ہیں،اور آیات جہاد بھی اسی سورۃ میں ہیں اور جہاد سے اسلام و قرآن سب ہی کی بقاءہے،نیز یہ سورۃ تمام سورتوں سے بڑی ہے۔
۲
؎سورۂحجراتسےوالناستک کو مفصّل کہتے ہیں،اس کے تین حصے ہیںحجراتسےبروجتک طوال مفصّل ہے اوربروجسےلم یکنتک اوساط اورلم یکنسےوالناستک قصار۔مرقات نے فرمایا کہ بقیہ قرآن کے مضامین توریت و انجیل کے مضامین کے مشابہ ہیں،مگر مفصل کے مضمون بے مثال ہیں،ایسے ہی مفصل ہیں اکثر ان مضامین کی تفصیل کر دی گئی ہے،جو بقیہ قرآن میں اجمالًا مذکور ہوئے،اس لیے اسے خلاصہ قرآن فرمایا گیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2179