Main Icon

باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2118

قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُعَلّٰى قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّيْ فِي الْمَسْجِدِ فَدَعَانِي النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَلَمْ أُجِبْهُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهٗ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنِّيْ كُنْتُ أُصَلِّيْ، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ ، ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ". فَأَخَذَ بِيَدِيْ، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! إِنَّكَ قُلْتَ: لأُعَلِّمِّنَكَ أَعْظَمَ سُوْرَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِيْ، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِيْ أُوْتِيْتُهٗ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي سعيد بن المعلى قال: كنت أصلي في المسجد فدعاني النبي -صلى الله عليه وسلم- فلم أجبه ، ثم أتيته فقلت: يا رسول الله! إني كنت أصلي، قال: ألم يقل الله: استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم ، ثم قال: "ألا أعلمك أعظم سورة في القرآن قبل أن تخرج من المسجد". فأخذ بيدي، فلما أردنا أن نخرج قلت: يا رسول الله! إنك قلت: لأعلمنك أعظم سورة من القرآن، قال: الحمد لله رب العالمين هي السبع المثاني، والقرآن العظيم الذي أوتيته". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعید ابن معلے سے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا ۱؎کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا میں نے جواب نہ دیا پھر میں حاضر ہوا ۲؎اور عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا فرمایا کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ رسول جب تمہیں بلائیں تو فورًا جواب دو ۳؎پھر فرمایا کہ کیا میں تمہیں تمہارے مسجد میں جانے سے پہلے قرآن کریم کی عظیم الشان سورۃ نہ بتاؤں ۴؎پھر حضور نے میرا ہاتھ پکڑا جب باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے فرمایا تھا کہ میں تم کو قرآن کریم کی عظیم الشان سورہ بتاؤں گا ۵؎فرمایا وہالحمدلله رب العلمینہے یہ تو وہ سات مکرر آیتیں ہیں اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوئیں ۶؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حضرت مسجد نبوی شریف میں حاضر ہوئے جبکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم برسرمنبر خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اور آیت"قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ" تلاوت فرما رہے تھے انہوں نےتحیۃ المسجدنفل کی نیت باندھ لی ایک گوشہ میں نماز پڑھنے لگے۔
۲
؎یعنی میں نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بلاوا سن لیا مگر نماز کی مشغولیت کی وجہ سے حاضر نہ ہوا پھر بعد سلام حاضر ہوا اور معذرت کے لیے یہ عرض کیا۔
۳
؎یہاں اللہ رسول کے بلانے سے مراد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا بلانا ہے ورنہ رب تعالٰی بلاواسطہ کسی کو نہیں بلاتا اس لیےدَعَاواحد کا صیغہ ارشا دہوا۔(مرقاۃ)اس فرمان سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اگر عین نماز میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو بلائیں تو اسی وقت اسی حالت میں حاضر بارگاہ ہوجانا واجب ہے۔دوسرے یہ کہ اس حاضر ہوجانے سے بلکہ جو خدمت سرکار فرمائیں اس کے بجالانے سے نماز ٹوٹے گی نہیں وہ نماز ہی میں رہے گا،اور خدمت سے فارغ ہو کر بقیہ رکعتیں پوری کرے گا جیسے حضور سے خطاب اور حضور کو سلام نماز نہیں توڑتا،ایسے ہی حضور کی یہ اطاعت نماز فاسد نہیں کرتی۔(مرقات)نمازی وضو ٹوٹنے پر پانی کے پاس جائے تو نماز نہیں جاتی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمت الٰہی کا سمندر ہیں آپ کے پاس آنے سے نماز کیسے جائے ۔
۴
؎پہلے سے یہ فرماکر منتظر بنادیا،تاکہ خوب یاد رکھیں جو بات انتظار کے بعد ملے،اس کی قدر ہوتی ہے،سورۃ قرآن شریف کا وہ حصہ ہے جس میں مضمون مکمل ہو اور اس کا نام بھی ہو۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ تمام آسمانی کتابوں کے مضامین قرآن شر یف میں ہیں۔اور سارے قرآن شریف کے مضامین سورۂ فاتحہ میں اور ساری سورۂ فاتحہ کے مضامینبسم اللهمیں اور ساریبسم اللهکے مضامین اس کے ب کے نقطہ میں۔ دیکھو ریلوے ٹائم ٹیبل یا جغرافیہ میں پورے ملک یا پورے شہر کی طرف ایک نقطہ سے اشارہ کردیا جاتا ہے اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ فاتحہ کو بڑی سورہ فرمایا اور ہر رکعت میں یہ دہرائی جاتی ہے۔
۵
؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا وعدہ یاد تھا مگر آپ نے ابتدا ءًنہ تعلیم دی تاکہ ان کے اپنے شو ق کا پتہ لگےکہ انہوں نے یہ بات یاد رکھی یا نہیں اور ان کا شوق پورا ہے یا نہیں۔
۶
؎خلاصہ فرمان یہ ہے کہ سورہ فاتحہ بہت سی خوبیوں کی جامع سورۃ ہے اس میں حمد الہٰی، نعت پاک مصطفوی،وعدے وعیدیں، حشر و نشر کا ذکر ،محبوب و مردود بندوں کا تذکرہ،رب تعالٰی سے سوال کی تعلیم،دین برحق کی پہچان وغیرہ تمام مضامین ہیں دیکھو ہماری تفسیر نعیمی کلاں،اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز کی ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں ان کا نزول دوبار ہوا ہجرت سے پہلے اور ہجرت کے بعد یہ سورۃ سات حرفوں سے خالی ہے:ث،ج،خ،ز،ش،ظ،فلہذا یہ سبع مثانی ہے یعنی سات مقرر آیتیں،نیز یہ سورت اس امت کی خصوصیات سے ہے کسی کو ہم سے پہلے نہ ملی،اس لیے رب تعالٰی نے اس کی عطاء کا خصوصیت سے ذکر فرمایا کہ ارشاد ہوا:"وَلَقَدْ اٰتَیۡنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیۡ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیۡمَ" اگرچہ قرآن پاک میں یہ سورۃ بھی تھی مگر اس کا ذکر مستقل طور پر فرمایا لمعات،مر قات۔اس سے معلو م ہوا کہ قرآن کی بعض سورتیں بعض سے اعلٰی و افضل ہیں اس کی تحقیق پہلے کی جاچکی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2118