- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- قرآن کے فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 2123
باب:قرآن کے فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2123
قرآن کے فضائل کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 2109
- 2110
- 2111
- 2112
- 2113
- 2114
- 2115
- 2116
- 2117
- 2118
- 2119
- 2120
- 2121
- 2122
- 2123
- 2124
- 2125
- 2126
- 2127
- 2128
- 2129
- 2130
- 2131
- 2132
- 2133
- 2134
- 2135
- 2136
- 2137
- 2138
- 2139
- 2140
- 2141
- 2142
- 2143
- 2144
- 2145
- 2146
- 2147
- 2148
- 2149
- 2150
- 2151
- 2152
- 2153
- 2154
- 2155
- 2156
- 2157
- 2158
- 2159
- 2160
- 2161
- 2162
- 2163
- 2164
- 2165
- 2166
- 2167
- 2168
- 2169
- 2170
- 2171
- 2172
- 2173
- 2174
- 2175
- 2176
- 2177
- 2178
- 2179
- 2180
- 2181
- 2182
- 2183
- 2184
- 2185
- 2186
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: وَكَّلَنِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِيْ آتٍ، فَجَعَلَ يَحْثُوْ من الطَّعَام، فَأَخَذْتُهٗ وَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، قَالَ: إِنَّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَيَّ عِيَالٌ، وَلِيْ حَاجَةٌ شَدِيْدَةٌ، قَالَ: فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ أَسِيْرُكَ الْبَارِحَةَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! شَكَا حَاجَةً شَدِيْدَةً وَعِيالًا فَرَحِمْتُهٗ، فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهٗ، قَالَ: "أَمَا إِنَّهٗ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ"، فَعَرَفْتُ أَنَّهٗ سَيَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهٗ سَيَعُوْدُ". فَرَصَدْتُهٗ، فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهٗ فَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-،قَالَ: دَعْنِيْ؛ فَإِنِّيْ مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيالٌ لَا أَعُوْدُ، فَرَحِمْتُهٗ، فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهٗ، فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! مَا فَعَلَ أَسِيْرُكَ؟ " قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! شَكَا حَاجَةً شَدِيْدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهٗ، فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهٗ، فَقَالَ: "أَمَا إِنَّهٗ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُوْدُ"، فَعَرَفْتُ أَنَّهٗ سَيَعُوْدُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّهٗ سَيَعُوْدُ"، فَرَصَدْتُهٗ، فَجَاءَ يَحْثُوْ مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهٗ فَقُلْتُ: لأَرْفَعَنَّكَ إِلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، وَهٰذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ، إِنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُوْدُ ثُمَّ تَعُوْدُ، قَالَ: دَعْنِيْ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللّٰهُ بِهَا، إِذَا أَوَيْتَ إِلٰى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ: اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ حَتّٰى تَخْتِمَ الآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللّٰهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرُبُكَ شَيْطَانٌ حَتّٰى تُصْبِحَ، فَخَلَّيْتُ سَبِيْلَهٗ، فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا فَعَلَ أَسِيْرُكَ؟ " قُلْتُ: زَعَمَ أَنَّهٗ يُعَلِّمُنِيْ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللّٰهُ بِهَا، قَالَ: "أَمَا إِنَّهٗ قَدْ صَدَقَكَ، وَهُوَ كذُوْبٌ، وَتَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثِ لَيَالٍ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَ: "ذَاكَ شَيْطَان". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
وعن أبي هريرة قال: وكلني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بحفظ زكاة رمضان، فأتاني آت، فجعل يحثو من الطعام، فأخذته وقلت: لأرفعنك إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، قال: إني محتاج، وعلي عيال، ولي حاجة شديدة، قال: فخليت عنه، فأصبحت، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "يا أبا هريرة! ما فعل أسيرك البارحة؟ " قلت: يا رسول الله! شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته، فخليت سبيله، قال: "أما إنه قد كذبك وسيعود"، فعرفت أنه سيعود لقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنه سيعود". فرصدته، فجاء يحثو من الطعام، فأخذته فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-،قال: دعني؛ فإني محتاج وعلي عيال لا أعود، فرحمته، فخليت سبيله، فأصبحت، فقال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يا أبا هريرة! ما فعل أسيرك؟ " قلت: يا رسول الله! شكا حاجة شديدة وعيالا فرحمته، فخليت سبيله، فقال: "أما إنه قد كذبك وسيعود"، فعرفت أنه سيعود لقول رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إنه سيعود"، فرصدته، فجاء يحثو من الطعام، فأخذته فقلت: لأرفعنك إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، وهذا آخر ثلاث مرات، إنك تزعم لا تعود ثم تعود، قال: دعني أعلمك كلمات ينفعك الله بها، إذا أويت إلى فراشك فاقرأ آية الكرسي: الله لا إله إلا هو الحي القيوم حتى تختم الآية، فإنك لن يزال عليك من الله حافظ، ولا يقربك شيطان حتى تصبح، فخليت سبيله، فأصبحت، فقال لي رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما فعل أسيرك؟ " قلت: زعم أنه يعلمني كلمات ينفعني الله بها، قال: "أما إنه قد صدقك، وهو كذوب، وتعلم من تخاطب منذ ثلاث ليال؟ " قلت: لا، قال: "ذاك شيطان". رواه البخاري.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے فطرہ کی حفاظت پر مقرر فرمایا ۱؎تو ایک شخص آیا غلے سے لپ بھرنے لگا ۲؎میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلوں گا ۳؎وہ بولا میں محتاج ہوں میرے بال بچے ہیں اور مجھے سخت حاجت ہے ۴؎فرماتے ہیں میں نے اسے چھوڑ دیا ۵؎جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ آج رات تمہارے قیدی کا کیا بنا ۶؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس نے سخت حاجت اور بال بچوں کا عذر کیا اس پر میں نے رحم کیا تو اس کو رہا کردیا ۷؎فرمایا وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر لوٹے گا ۸؎مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے یقین ہوگیا کہ وہ لوٹ کر آئے گا میں اس کی تاک میں رہا ۹؎وہ پھر آیا اور غلے کے لپ بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا اب کے تو تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں محتاج ہوں اور مجھ پر بال بچوں کا بہت بوجھ ہے میں اب نہ آؤں گا،مجھے رحم آگیا اسے رہا کردیا ۱۰؎جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ہریرہ تمہارے قیدی کا کیا بنا میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس نے سخت محتاجی اور بال بچوں کا عذر کیا مجھے اس پر رحم آگیا اسے رہا کردیا۱۱؎فرمایا آگاہ رہو وہ تم سے جھوٹ بول گیا اور وہ پھر آئے گا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانے سے وہ پھر آئے گا یقین ہوگیا کہ وہ ضرور آئے گا میں گھات میں رہا وہ آیا غلے سے لپیں بھرنے لگا میں نے اسے پکڑ لیا تو کہا کہ اب تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ضرور لے چلوں گا یہ آخری تیسری بار ہے کہ تو کہہ جاتا ہے کہ نہ آئے گا پھر آجاتا ہے ۱۲؎وہ بولا مجھے چھوڑ دیجئے میں آپ کو چند ایسے کلمات سکھائے دیتا ہوں کہ اللہ ان کی برکت سے آپ کو نفع دے گا۱۳؎جب آپ بستر میں جائیں۱۴؎تو آیۃ الکرسیالله لا الہ الا ھو الحی القیومآخری آیت تک پڑھ لیں تو آپ پر اللہ کی طرف سے حافظ رہے گا۱۵؎اور صبح تک شیطان آپ کے قریب نہ بھٹکے گا ۱۶؎میں نے اسے چھوڑ دیا ۱۷؎جب صبح ہوئی تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بنا تمہارے قیدی کا میں نے عرض کیا اس نے کہا کہ مجھے ایسے کلمات سکھائے گا جن سے اللہ مجھے نفع دے گا،حضور نے فرمایا وہ ہے تو جھوٹا مگر تم سے سچ بول گیا۱۸؎کیا جانتے ہو کہ تم تین دن سے کس سے گفتگو کر رہے ہو میں نے کہا نہیں فرمایا یہ شیطان ہے ۱۹؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی صحابہ کرام جو اپنے فطرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں حاضر کرجاتے تھے تاکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم خود فقراء میں تقسیم فرمادیں تاکہ آپ کے ہاتھ کی برکت سے رب تعالٰی قبول فرمالے اس جمع شدہ فطروں کی حفاظت اس دفعہ حضرت ابو ہریرہ کے سپرد ہوئی۔
۲؎یعنی فطرے کا گندم چرانے اور لے جانے لگا میں نے اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیا۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت دانہ،غذائیں پھل،مٹھائیاں سب کچھ کھاتے ہیں،ساتھ ہی کوئلہ وغیرہ بھی کھاتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص بغیر
بسم اللہ پڑھے کھائے تو شیطان کھانے میں شریک ہوجاتا ہے،لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ ابلیس کو کھانے کی کیا حاجت اس سے معلوم ہوا کہ شیطان چوری کرتا ہے اس لیے آیۃ الکرسی وغیرہ مال پر دم کردی جائے تاکہ جن وانس کی چوری سے محفوظ رہے ۔
۳؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اولیاء اللہ خصوصًا صحابہ کرام شیطان کو دیکھ سکتے ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض کی برکت سے ان کی آنکھوں سے غیبی حجاب اٹھ جاتے ہیں،ان حضرات نے تو بار ہا فرشتوں کو دیکھا جن کی کیا حقیقت ہے دوسرے یہ کہ شیطان ان کی گرفت سے چھوٹ نہیں سکتا،وہ لوگ نورانی ہیں،نور کی طاقت نار سے زیادہ ہے جن کا ہاتھ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ہو اس کی گرفت سے کون چھوٹے۔ تیسرے یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے شیطان گھبراتا ہے،وہاں حاضری کی ہمت نہیں کرتا۔ خیال رہے کہ قرآن کریم شیاطین کے متعلق فرماتا ہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ھُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ لَا تَرَوْنَہُمْ"کہ وہ اور اس کی ذریت تو تم کو دیکھتے ہیں مگر تم ان کو نہیں دیکھتے،آیت کا منشا یہ ہے کہ تم ان جنات کو ان کی اصل شکل میں نہیں دیکھ سکتے لیکن جب وہ شکل انسانی میں ہوں،تو انہیں دیکھا جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث قرآن کے خلاف نہیں،مرقات یا آیت میں عام انسانوں کا ذکر ہے اور یہاں اللہ کے خاص بندوں کا تذکرہ ۔
۴؎ادائے قرض وغیرہ معلوم ہوا کہ شیطان جھوٹ بولتا ہے۔وہ نہ محتاج ہے نہ اس کے بال بچوں کو فاقہ ہے،دفینے کانیں اس کی نگاہ میں ہیں سفلی عمل کرنے والوں کو وہ روزانہ مال پہنچاتا ہے،جسے ناجائز دست غیب کہا جاتا ہے جائز دست غیب رب تعالٰی کی رحمت ہے،ناجائز دستِ غیب حرام ۔
۵؎یا اس لیے چھوڑ دیا کہ ابھی اس نے چوری نہیں کی تھی ارادہ ہی کیا تھا یا چوری تو کرلی تھی مگر چوری حاکم کے پاس پہنچنے سے پہلے حق العبد رہتی ہے اور وہاں پہنچ کر حق اللہ بن جاتی ہے،پہلی صور ت میں بندہ اس سے مال چھین کر اسے چھوڑ سکتا ہے۔ دوسری صورت میں بندہ معاف نہیں کرسکتا ہاتھ ہی کٹیں گے یا اس لیے کہ اگر زکوۃ و خیرات سے فقیر چوری کرے تو ہاتھ نہ کٹیں گے کیونکہ اس مال میں اس کا بھی حق ہے جیسے بیوی بخیل خاوند کے مال سے اپنے حق کے بقدر چوری کرے تو مجرم نہیں کہ اس نے چوری نہیں کی بلکہ اپنا حق لیا بہرحال حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ انہیں چور کو چھوڑ دینے کا کیا حق تھا۔
۶؎یعنی جب میں نماز فجر کے لیے حاضر بارگاہ ہوا تو بغیرمیرے کچھ عرض کئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال فرمایا معلوم ہوا کہ حضورا نور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ہر ظاہر و چھپی چیزیں دیکھتی ہیں کوئی چیز ان سے مخفی نہیں وہ توقبر کے اندر کے عذاب اور دلوں کے حال سے خبردار ہیں۔مصرعچشم توبینندہ ما فی الصدور (اقبال)
۷؎اس جملہ میں فقیر کی عرض کی ہوئی توجیہ کی تائید ہوئی کہ حضرت ابوہریرہ کو اس پر رحم کرنے کا بھی حق تھا اور چھوڑ دینے کا بھی اسی لیے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے آپ پر عتاب نہ فرمایا کہ ابو ہریرہ تمہیں چھوڑ دینے کا کیا حق تھا۔
۸؎اس سے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب ثابت ہوا ۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ ہونے والے واقعات کا ر ب تعالٰی نے علم بخشا جو آئندہ ہونے والا ہے وہ بتارہے ہیں۔شعر
خدا مطلع ساخت برجملہ غیب علی کل شیئ خبیر آمدی
۹؎یعنی آج شب کو میں خوب چوکنا رہا سویا نہیں،غافل نہ رہا،اسے پکڑنا بھی تھا اور اس کا تماشا بھی دیکھنا تھا۔
۱۰؎حضرت ابوہریرہ نے اس کا یہ قول کہ اب نہ آؤں گا اس کی توبہ سمجھا اس لیے چھوڑ دیا،اسے سچا نہ سمجھا،کیونکہ اس کا جھوٹا ہونا تو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے معلوم ہوچکا تھا یہ رحمت اس کی توبہ پر ہے نہ کہ اسے غریب سمجھ کر اس بار بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ پر عتاب نہ فرمایا لہذا حدیث بالکل واضح ہے کوئی اعتراض نہیں یا آپ نے خیال فرمایا کہ یہ جھوٹ سے توبہ کرچکا ہے اور اب سچ بول رہا ہے پہلے جھوٹا تھا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ جھوٹ کی خبر دی تھی اور اب سچ بول رہا ہے۔
۱۱؎اس رحم کی وجہ ابھی عرض کردی گئی اس چھوڑ دینے میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پاک کی مخالفت نہیں ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آئندہ چھو ڑ دینے سے منع نہ کیا تھا۔
۱۲؎خیال رہے کہ شیطان نے صرف ایک دفعہ یعنی دوسری بار میں ہی کہا تھاکہ میں اب نہ آؤں گا مگر حضرت ابوہریرہ فرمارہے ہیں کہ تو کہہ جاتا ہے میں نہ آؤں گا اس لیے شارحین نے فرمایا کہ یہاںتزعممضارع ہے مگر بمعنی ماضی ہے یعنی تو کہہ گیا تھا اب نہ آؤں گا اور پھر آگیا یا حکمی و حقیقی دونوں طرح کہہ جانا مراد ہے یعنی تو پہلی بار میں حکمًا اور دوسری بار میں حقیقتًا کہہ گیا تھا کہ اب نہ آؤں گا لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
۱۳؎یعنی میں آپ پر ایک عمل مجرب بتا کر احسان کرتا ہوں آپ اس کے عوض مجھ پر یہ احسان کردیں کہ مجھے چھوڑ دیں کیونکہ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے ابلیس کی اس خوشامد سے معلوم ہوا کہ وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہوئے بہت گھبراتا ہے ورنہ وہ حاضر ہوجانے پر راضی ہوجاتاہے اب جس کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت نہ ہو وہ شیطان سے بدتر ہے شیطان یا تو خدا سے ڈرتاہے کہ کہتاہے: "اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ" یا جناب مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کے دل میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی ہیبت چاہیے ڈاکٹر ا قبال یوں دعا کر تے ہیں۔شعر
مکن رسوا بروئے خواجہ مارا حساب من زچشم اونہاں گیر
۱۴؎یعنی سونے کے لیے لیٹیں بستر پر یا فرش خاک پر یا تخت پر،بستر کا ذکر عرف کی بنا پر ہے اور سونا خواہ دن میں ہو یا رات میں۔
۱۵؎یعنی خود رب تعالٰی یا اس کا مقرر کردہ،فرشتہ آپ کے جان و مال کی حفاظت کرے گا کہ گھر تو گر جانے آگ لگ جانے وغیرہ سے محفوظ رہے گا اور مال چوری وغیرہ سے امان میں رہے گا جیسا کہ دوسری احادیث میں وارد ہے،یہ عمل بہت ہی مجرب ہے۔
۱۶؎یعنی دینی یا دنیاوی نقصان پہنچانے کے لیے شیطان ابلیس آپ کے قریب نہ آسکے گا،مطلقًا قریب آنے کی نفی نہیں لہذا حدیث پریہ اعتراض نہیں رہا کہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ ہم آیۃالکرسی پڑھ کر سوتے ہیں پھربھی احتلام ہوجاتا ہے اور احتلام شیطان سے ہوتا ہے ہاں آیۃ الکرسی کی برکت سے شیطان نماز قضا نہ کراسکے گا کہ یہ دینی نقصان ہے یوں ہی اس کی برکت سے اولًا تو گھر میں چور سانپ وغیرہ آئیں گے نہیں اگر اتفاقًا آگئے تو شیطان اسے اس موقعہ پر غافل نہ کرسکے گا کہ اس میں دنیاوی نقصان ہے،ان شاء اللهآنکھ کھل جائے گی اور یہ شخص ان کے شر سے محفوظ رہے گا۔
۱۷؎اس بار رحم کھا کر نہ چھوڑا بلکہ اس کے احسان کے عوض اور اس چھوڑ دینے میں بھی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت نہ تھی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہ کیا تھا۔
۱۸؎اس فرمان عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ شیطان قرآن شریف سے بھی واقف ہے اور آیات قرآنیہ کے احکام و اسرار واشارات سے بھی خبردار ہے،امام فخرالدین رازی نے فرمایا کہ شیطان ہر دین کے اچھے برے اعمال سے تفصیل وار واقف ہے اور ہر شخص کی نیت وارادہ پر مطلع ہے،اس کے بغیر وہ خلق کو بہکا نہیں سکتا،جب اس بہکانے والے کے علم کا یہ حال ہے تو خلق کے ہادی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کا کیا پوچھنا۔دوا کی طاقت بیماری سے زیادہ چاہئیے قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّہٗ یَرٰىکُمْ ھُوَ وَقَبِیۡلُہٗ مِنْ حَیۡثُ
لَا تَرَوْنَہُمْ"شیطان اور اس کی ذریت تم سب کو دیکھتے ہیں مگر تم انہیں نہیں دیکھے یعنی وہ حاضر ناظر ہے کیوں، لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے تو جس کے ذمہ خلق کی ہدایت ہے وہ بھی حاضر و ناظر ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ دوسرے یہ کہ شیطان کافر بھی کبھی سچ بول دیتا ہے۔ تیسرے یہ کہ مؤمن کو چاہئیے جہاں سے اسے علم ملے لے لے،ہاں بے دین کو استاد دین کا نہ بنائے یہاں حضرت ابوہریرہ نے شیطان کو استاد نہ بنایا جیسے قابیل کو کوے نے طریقہ دفن سکھایا،مگر کوا ان کا استاد نہ تھا۔خیال رہے کہ کافر و بے دین کی اچھی بات پر جلد اعتماد نہ کرے ممکن ہے وہ شہد میں زہر دے رہا ہوں،یہاں جناب ابوہریرہ نے شیطان کی جب مانی جب کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تائید و تصدیق فرمادی۔ چوتھے یہ کہ آیۃ الکرسی دفع شیطان کے لیے اکسیر ہے خود شیطان اس کی خبر دے گیا کہ میرے بھاگنے کا ذریعہ آیۃ الکرسی ہے بھگانے والے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی تائید فرمادی،اور بھاگنے والے مردود نے بھی اس کی خبر دے دی۔ پانچویں یہ کہ کافر کی سچی بات کی مسلمان تصدیق و تائیدکرسکتا ہے۔
۱۹؎یعنی ابلیس تھا جو اس مال میں برکت مٹانے آیا تھا ورنہ اسے چوری کرنے کی کیا ضرورت تھی،یہ حدیت تسخیر جنات کی اصل ہے،بعض عامل حصرات جنات کو اپنے عمل سے قیدکردیتے ہیں۔بالکل حق ہے دلیل یہ حدیث ہے،فقیر کی اس مذکور شرح سے حسب ذیل اعتراضات اٹھ گئے:اول یہ کہ حضرت ابوہریرہ کو شیطان نظر کیسے آگیا۔قرآن پاک فرماتا ہے کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے،دوسرے یہ کہ حضرت ابوہریرہ کی گرفت میں شیطان کیونکر آگیا،وہ ہوا یا آگ کے شعلہ کی طرح ہے جسے پکڑا نہیں جاسکتا۔ تیسرے یہ کہ شیطان کو چوری کی کیا ضرورت ہے، چوتھے یہ کہ حضرت ابوہریرہ کو اسے پکڑ کر چھوڑ دینے کا کیا حق تھا،پانچویں یہ کہ جب حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا تھا کہ وہ جھوٹا ہے اور پھر آئے گا تو جناب ابوہریرہ نے اس کی بات کا اعتبار کیوں کیا۔چھٹے یہ کہ شیطان کو کیا خبر کہ قرآن کریم کی کس آیت میں کیا تاثیر ہے ساتویں یہ کہ اس سے لازم آیا کہ شیطان حضرت ابوہریرہ
کا استاد ہو۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 2123