Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2604

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن هشام بن عروة عن أبيه قال: سئل أسامة بن زيد: كيف كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسير في حجة الوداع حين دفع؟ قال: كان يسير العنق، فإذا وجد فجوة نص. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ اسامہ ابن زید سے پوچھا گیا کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم حجۃ الوداع میں جب عرفہ سے روانہ ہوئے تو کس چال سے چلتے رہے فرمایا آپ قدرے تیز چلتے رہے(دلکی)پھر جب کھلا راہ پاتے تو زیادہ تیز چلتے(میدانی)۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ہشام بھی تابعی ہیں اور ان کے والد عروہ ابن زبیر ابن اعوام بھی تابعی ہیں،عروہ ابن زبیر مدینہ منورہ کے سات مشہور فقہاء سے ہیں، آپ کا کنواں اور باغ بیرعروہ کی فقیر نے زیارت کی ہے،اس کا پانی بھی پیا ہے۔
۲
؎فَجْوَۃٌکے معنی ہیں کشادگی اور کھلی جگہ،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَ هُمْ فِیۡ فَجْوَۃٍ مِّنْهُ"اصحاب کہف غار کی کھلی جگہ میں ہیں،نص اور عنق اونٹ کی رفتاروں کے نام ہیں۔نص عنق سے زیادہ تیز ہوتی ہے جیسے گھوڑے کی رفتاروں کے نام دلکی،میدان،سرپٹ وغیرہ ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عام حالت میں معمولی رفتا رپر چلایا اور اگر کوئی جگہ خالی ملی تو تیز رفتار سے تاکہ حتی الامکان اگلے مقام پر جلد پہنچ کر عبادات کریں یہ بھی سبقت الی الخیرات کی قسم ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2604