Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2615

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: يُلَبِّي الْمُقِيمُ، أَوِ الْمُعْتَمِرُ حَتّٰى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَقَالَ: وَرُوِيَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ

وعن ابن عباس قال: يلبي المقيم، أو المعتمر حتى يستلم الحجر. رواه أبو داود، وقال: وروي موقوفا على ابن عباس

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہی کہ مقیم یا عمرہ کرنے والا حجر اسود چومنے تک تلبیہ کہے۱؎(ابوداؤد) ابوداؤد نے فرمایا یہ حضرت ابن عباس سے موقوفًا مروی ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاَوراوی کے شک کی بنا پر ہے کہ سیدنا عبداللّٰه ابن عباس نےمقیمفرمایا یامعتمر۔(لمعات)اور ہوسکتا ہے کہمقیمسے مراد وہ شخص ہو جو مکہ مکرمہ میں ٹھہرا ہوا ہو خواہ وہاں کا باشندہ ہو یا باہر کا آدمی ٹھہر گیا اورمعتمرسے مراد وہ ہے جو باہر سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ معظمہ وارد ہوا،دونوں سے مراد عمرہ کرنے والے ہی ہیں یعنی عمرہ والا کوئی بھی ہو مکہ کا یا باہر کا سنگ اسود چومتے ہی تلبیہ ختم کردے جیسے کہ حاجی جمرہ عقبہ کی رمی پر تلبیہ ختم کرتا ہے۔مرقات میں یہ حدیث اس باب میں تبعًالائی گئی کہ اس سے حج کے تلبیہ بند کرنے کا حکم اشارۃً معلوم ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2615