Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2613

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدَّمَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ أُغَيْلِمَةَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَلٰى حُمُرَاتٍ فَجَعَلَ يَلْطَحُ أَفْخَاذَنَا وَيَقُولُ: أُبَيْنِيَّ لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عباس قال: قدمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة أغيلمة بني عبد المطلب على حمرات فجعل يلطح أفخاذنا ويقول: أبيني لا ترموا الجمرة حتى تطلع الشمس. رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ہم بنی عبدالمطلب کے بچوں کو خچروں پر سوار کرکے آگے روانہ کردیا حضور انور ہماری رانوں کو ہاتھ لگاتے ۱؎اور فرماتے تھے بچو سورج نکلنے سے پہلے جمرہ کو کنکر نہ ماریو ۲؎(ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یلطح لطحٌسے بنا،اس کے معنی ہتھیلی سے تھپکورنا۔اس سے معلوم ہوا کہ خچر پر حج کرنا بلاکراہت جائز ہے۔
۲
؎یعنی تم اگرچہ رات ہی میں منٰی پہنچ جاؤ گے مگر جمرہ کی رمی آفتاب نکلنے کے بعد کرنا۔امام شافعی کے ہاں آدھی رات کے بعد رمی جائز ہے اور امام ابوحنیفہ و احمد کے ہاں پو پھٹنے کے بعد رمی جائز ہے مگر امام صاحب کے ہاں مستحب یہی ہے کہ آفتاب نکلنے کے بعد رمی کی جائے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے اور امام شافعی صاحب کے خلاف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2613