Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2616

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهٗ سَمِعَ الشَّرِيدَيَقُولُ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتّٰى أَتٰى جمْعاً. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

عن يعقوب بن عاصم بن عروة أنه سمع الشريديقول: أفضت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فما مست قدماه الأرض حتى أتى جمعا. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یعقوب ابن عاصم ابن عروہ سے کہ انہوں نے حضرت شرید کو فرماتے سنا ۱؎کہ میں رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ عرفات چلا تو آپ کے قدم شریف زمین سے نہ لگے حتّٰی کہ مزدلفہ میں پہنچ گئے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعقوب ابن عاصم ابن عروہ ابن مسعودتابعی ہیں،ثقفی ہیں اور شرید ابن سوید کا نام مالک ہے،یہ زمانہ جاہلیت میں اپنی قوم کا ایک آدمی قتل کرکے مکہ بھاگ آئے تھے اس لیے ان کا لقب شرید ہوگیا۔(مرقات)
۲
؎یعنی سرکار عرفات سے مزدلفہ تک پیدل چلنے کے لیے کہیں نہ اترے سواری پر ہی رہے لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم اس راہ میں ایک جگہ پیشاب کے لیے اترے،استنجاء فرماکر وضو کیا،عرض کیا گیا،حضور نماز مغرب ؟ فرمایا نماز آگے ہے،چونکہ یہاں چلنے کے لیے اترنے کی نفی ہے اور وہاں حاجت کے لیے اترنے کا ثبوت۔خیال رہے کہ پیدل حج کا بہت ثواب ہے کہ ہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں کا وعدہ ہے اور سواری پر حج سنت رسول ہے ثواب اس کا زیادہ تقرب اس میں زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ اور بیٹھ کر پڑھنے کا تقرب زیادہ کہ سرکاریہ نفل بیٹھ کر ہی پڑھتے تھے،یہاں پیدل حج سے مراد مکہ مکرمہ سے عرفات جانا آنا ہے نہ کہ گھرسے پیدل جانا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2616