Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2608

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلّٰى صَلَاةً إِلَّا لِمِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ: صَلَاةَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ وَصَلَّى الْفَجْرَ يَوْمَئِذٍ قَبْلَ مِيقَاتِهَا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة إلا لميقاتها إلا صلاتين: صلاة المغرب والعشاء بجمع وصلى الفجر يومئذ قبل ميقاتها. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو کبھی نہ دیکھا کہ آپ نے کوئی نماز غیر وقت میں پڑھی ہو ۱؎سواء دو نمازوں کے مزدلفہ میں تو مغرب و عشاء ۲؎اور اس دن نماز فجر اپنے وقت معہود سے پہلے پڑھ لی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی دلیل ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کبھی سفر میں جمع بین الصلوتین نہ کیا یعنی چند نمازیں بیک وقت نہ پڑھیں،وہاں جمع صوری تھا کہ ظہر آخر وقت میں پڑھی اور عصر اول وقت میں،رہا غزوۂ خندق میں چند نمازیں یکدم پڑھنا وہ جمع نہ تھا بلکہ قضاء پڑھی گئی تھیں،جمع اور ہے قضاء کچھ اور۔
۲
؎یعنی مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو حقیقتًا جمع فرمایا کہ مغرب عشاء کے وقت میں پڑھی اور دوسری عرفات میں کہ وہاں عصر ظہر کے وقت میں پڑھی،چونکہ وہ جمع صلوتین دن میں اور سب کے سامنے ہواتھا اسی لیے اس کا علیحدہ نام نہ لیا اور مزدلفہ میں نمازوں کا اجتماع رات میں تھا جس میں سارے حجاج جمع نہ تھے اس لیے صرف اس کا ذکر صراحۃً علیحدہ بھی کردیا لہذا حدیث واضح ہے دو نمازوں سے مراد عرفہ و مزدلفہ کی نمازیں ہیں۔
۳
؎یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمیشہ فجر خوب اجیالا میں پڑھتے تھے مگر آج مزدلفہ میں پو پھٹنے کے بعد اندھیرے میں پڑھی،یہ حدیث امام اعظم قدس سرہ کی قوی دلیل ہے کہ ہمیشہ فجر اجیالے میں پڑھی جائے،صرف مزدلفہ میں اندھیرے منہ پڑھے کیونکہ اگر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ہمیشہ ہی نماز فجر پو پھوٹتے ہی پڑھتے ہوتے تو آج وقت معتاد سے پڑھنے کے کیا معنی،کیا وقت سے پہلے پڑھ لی ہرگز نہیں لہذا قول احناف قوی ہے،یہاں تمام آئمہ کے ہاں وقت سے مراد وقت معتاد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2608