Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2612

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَدْفَعُونَ مِنْ عَرَفَةَ حِينَ تَكُونُ الشَّمْسُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ وَمِنَ الْمُزْدَلِفَةِ بَعْدَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ حِينَ تَكُونُ كَأَنَّهَا عَمَائِمُ الرِّجَالِ فِي وُجُوهِهِمْ . وَإِنَّا لَا نَدْفَعُ مِنْ عَرَفَةَ حَتّٰى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَنَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ هَدْيُنَا مُخَالِفٌ لِهَدْيِ عَبَدَةِ الْأَوْثَانِ وَالشِّرْكِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. وَقَالَ: "خَطَبَنَا" وَسَاقَهٗ بِنَحْوِهٖ

عن محمد بن قيس بن مخرمة قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «إن أهل الجاهلية كانوا يدفعون من عرفة حين تكون الشمس كأنها عمائم الرجال في وجوههم قبل أن تغرب ومن المزدلفة بعد أن تطلع الشمس حين تكون كأنها عمائم الرجال في وجوههم . وإنا لا ندفع من عرفة حتى تغرب الشمس وندفع من المزدلفة قبل أن تطلع الشمس هدينا مخالف لهدي عبدة الأوثان والشرك» . رواه البيهقي. وقال: "خطبنا" وساقه بنحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن قیس ابن مخرمہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمایا کہ جاہلیت والے جب عرفہ سے چلتے تھے ۱؎جب کہ سورج ایسا ہوجاتا تھا جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں ۲؎غروب سے پہلے اور مزدلفہ سے آفتاب چمکنے کے بعد جب کہ دھوپ ایسی ہوتی جیسے لوگوں کی پگڑیاں ان کے چہروں میں اور ہم عرفہ سے سورج ڈوبنے تک روانہ ہوں گے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے چلیں گےہمارا طریقہ بت پرستوں اور مشرکوں کے خلاف ہوگا ۳؎(بیہقی) وہاں یہ بھی روایت کی کہ ہم پر حضور نے خطبہ ارشاد کیا پھر اس کی مثل روایت کی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے یہ خطبہ عرفات میں دیا کیونکہ وہاں ارکان حج سکھائے جاتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حج سے پہلے کسی جمعہ میں ارشاد فرمایا ہو تا کہ حج کو جانے والے ابھی سے احکام سیکھ لیں،اہلِ جاہلیت سے مراد قریش کے سواء دیگر کفار ہیں،قریش توعرفات جاتے ہی نہ تھے مزدلفہ سے ہی لوٹ جاتے تھے۔
۲
؎یعنی آفتاب ڈوبنے سے کچھ پہلے وہ عرفات سے روانہ ہوجاتے تھے جب سورج کنارہ مغرب میں پہنچ جاتا اور اس کی دھوپ چہروں پر ایسی ہلالی پڑتی تھی جیسے پیشانی پر عمامہ کا حصہ یعنی سروں پر دھوپ نہ رہتی صرف چہروں پر اس طرح رہتی یا مطلب یہ ہے کہ پہاڑوں پر دھوپ ایسی پڑتی تھی جیسے چہروں پر پگڑی کا کنارہ،عمامہ کی شکل نصف کرہ کی ہے ایسے ہی پہاڑوں پر دھوپ کی شکل ہوجاتی تھی۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین عرفات سے سورج ڈوبنے سے پہلے چلتے تھے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے کے بعد اسلام میں اس کے برعکس ہے کہ عرفات سے سورج ڈوبنے کے بعد چلتے ہیں تاکہ وہاں ہی رات کی ایک ساعت بھی گزر جائے اور مزدلفہ سے سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوجائیں کیونکہ پو پھٹنے پر دن نکل آتا ہے،رات و دن کا اجتماع عرفہ میں بھی کریں گے اور مزدلفہ میں بھی۔مرقات میں ہے کہ اکثر علماء کے ہاں دن چھپے تک عرفہ میں رہنا واجب ہے اور دن نکلتے وقت تک مزدلفہ میں ٹھہرنا سب کے ہاں سخت مکروہ ہے۔
۴
؎یہاں مشکوۃ شریف میں سفیدی چھوڑی ہوئی ہے یعنی مؤلف کو یہ حدیث کہیں نہیں ملی،مگر شیخ ابن حجر اور جزری نے فرمایا کہ یہ حدیث بیہقی شعب الایمان میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2612