Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2606

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زِيدٍ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ إِلٰى مِنًى فَكِلَاهُمَا قَالَ: لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتّٰى رَمٰى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه أن أسامة بن زيد كان ردف النبي صلى الله عليه وسلم من عرفة إلى المزدلفة ثم أردف الفضل من المزدلفة إلى منى فكلاهما قال: لم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ حضرت اسامہ ابن زید عرفہ سے مزدلفہ تک نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ردیف (پیچھے سوار)رہے پھرحضور انور نے مزدلفہ سے منٰی تک حضرت فضل کو پیچھے بٹھالیا ۱؎ان دونوں صاحبوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم جمرہ عقبہ کو کنکر مارنے تک تلبیہ کہتے رہے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خلاصہ یہ ہے کہ عرفات سے منیٰ تک دو حضرات کو آگے پیچھے حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ ہمرکابی کی سعادت میسر ہوئی، عرفات سے مزدلفہ تک حضرات اسامہ ابن زید ابن حارث رضی اللّٰہ عنہ حضور انور کے ساتھ حاضر تھے اور مزدلفہ سے منٰی تک حضرت فضل ابن عباس کو اس کا شرف ملا،چونکہ حضور انور کی ہمرکابی اعلٰی درجہ کا شرف ہے،نیز اس قرب سے حضور کے اعمال طیبہ بخوبی معلوم ہوسکتے ہیں اس لیے یہ واقعہ بیان فرمایا۔
۲
؎معلوم ہوا کہ حج کا تلبیہ دسویں ذی الحجہ رمی جمرہ عقبہ تک رہتا ہے یہاں پہلا کنکر مارتے ہی تلبیہ ختم ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2606