Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2617

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ سَأَلَ عَبْدَ اللّٰهِ: كَيْفَ نَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذٰلِكَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَالِمٌ: وَهَلْ يَتَّبِعُونَ ذٰلِكَ إِلَّا سُنَّتَهٗ؟ رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن شهاب قال: أخبرني سالم أن الحجاج بن يوسف عام نزل بابن الزبير سأل عبد الله: كيف نصنع في الموقف يوم عرفة؟ فقال سالم إن كنت تريد السنة فهجر بالصلاة يوم عرفة فقال عبد الله بن عمر: صدق إنهم كانوا يجمعون بين الظهر والعصر في السنة فقلت لسالم: أفعل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال سالم: وهل يتبعون ذلك إلا سنته؟ رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت حضرت ابن شہاب سے فرماتے ہیں مجھے سالم نے خبر دی کہ جس سال حجاج ابن یوسف نے حضرت زبیر پر حملہ کیا ۱؎تو اس نے حضرت عبداللّٰه سے پوچھا کہ ہم عرفہ کے دن قیام گاہ میں کیا کریں سالم نے فرمایا کہ اگر تو سنت پر عمل چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز ظہر دوپہری میں ہی پڑھ ۲؎اس پر عبداللّٰه ابن عمر نے فرمایا یہ سچے ہیں صحابہ کرام بطریق سنت ظہر و عصر جمع کر کے پڑھتے ۳؎تھے تو میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی یہ عمل کیا ہے تو سالم نے فرمایا کہ صحابہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی سنت ہی کی پیروی کرتے تھے۴؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ابن شہاب امام زہری کی کنیت ہے اور سالم عبداللّٰه ابن عمر کے فرزند ہیں،حجاج ابن یوسف ثقفی مشہور ظالم حاکم گزرا ہے جو عبدالملک ابن مروان کی طرف سے حجاز کا گورنر تھا،اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار آدمی باندھ کر قتل کرائے۔ (مرقات)جو جنگوں میں مارے گئے وہ اس کے علاوہ ہیں،اس نے عبداللّٰه ابن زبیر پر حملہ کیا تھا جو کہ مکہ مکرمہ اور عراق کے بادشاہ بن چکے تھے انہیں سولی دی،عبدالملک نے اسی سال اسے حکم دیا تھا کہ تو حج پر جا اور عبداللّٰه ابن عمر کی پیروی کر،ہر کام ان سے پوچھ کر کرنا،کسی کام میں ان کی مخالفت نہ کرنا تب اس نے آپ سے پوچھا۔
۲
؎یعنی روزانہ ظہر ٹھنڈے وقت میں پڑھتے ہیں مگر نویں ذی الحجہ عرفات میں دوپہری میں زوال ہوتے ہی پڑھ لو۔
۳
؎یعنی عرفہ میں دو کام نئے ہوں گے:ایک ظہر جلدی پڑھنا، دوسرے ظہر کے وقت میں عصر پڑھنا۔
۴
؎یعنی ابن شہاب(امام زہری)نے حضرت سالم سے پوچھا کہ عرفات میں ظہر جلد پڑھنا اور عصر و ظہر ملا کر پڑھنا صرف صحابہ کا اپنا اجتہادی عمل تھا یا سنت رسول اللّٰه بھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سنت ہے۔خیال رہے کہ حضرت سالم اور حضرت عبداللّٰه ابن عمر کا اس موقعہ پر صحابہ کا عمل پیش فرمانا اس لیے تھا کہ حجاج ظالم کو انکار کی گنجائش نہ رہے۔عمل عام کی مخالفت آسان نہیں ہوتی،سیدنا عبداللّٰه ابن عمر کو حجاج ہی نے ایک حیلہ سے شہید کرادیا کہ آپ کے پاؤں شریف میں زہر آلودہ برچھی بہانہ سے چبھوادی،علیہ ماعلیہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2617