Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2611

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ وَقَالَ: «لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هٰذَا». لَمْ أَجِدْ هٰذَا الْحَدِيثَ فِي الصَّحِيحَيْنِ إِلَّا فِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ مَعَ تَقْدِيمِ وَتَأْخِيرٍ.

وعن جابر قال: أفاض النبي صلى الله عليه وسلم من جمع وعليه السكينة وأمرهم بالسكينة وأوضع في وادي محسر وأمرهم أن يرموا بمثل حصى الخذف وقال: «لعلي لا أراكم بعد عامي هذا». لم أجد هذا الحديث في الصحيحين إلا في جامع الترمذي مع تقديم وتأخير.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مزدلفہ سے یوں روانہ ہوئے کہ آپ پر نہایت سکون و اطمینان تھا اور لوگوں کو بھی سکون کا ہی حکم دیا اور وادی محسر میں سواری کچھ تیز کی ۱؎اور انہیں حکم دیا کہ ٹھیکریوں کی سی کنکریوں سے رمی کریں اور فرمایا شاید تمہیں اس سال کے بعد نہ دیکھوں گا۲؎میں نے یہ حدیث مسلم،بخاری میں نہ پائی صرف ترمذی میں پائی وہ بھی کچھ تقدیم و تاخیر سے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مزدلفہ سے منٰی تک کا بقیہ راستہ تو آہستگی سے طے فرمایا مگر یہ مقام قدرے تیزی سے،اس کی وجہ پہلے بیان کی جاچکی ہے مگر یہ تیزی بھی ایسی نہ تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہو اسی لیےاوضعفرمایا،ایضاعکے معنی ہیں جانور کو ایڑھ لگانا تاکہ وہ قدرے تیز ہوجائے۔
۲
؎یعنی یہ ہمارا آخری حج ہے بلکہ مکہ مکرمہ کی حاضری بھی آخری ہے اور ہماری حیات کا آخری سال ہے،جو کچھ سیکھنا ہے ہم سے جلد سیکھ لو،اے مشتاق آنکھوں دیدار محبوب سیر ہوکر کرلو،پھر ترسو گے۔یہلَعَلَّیقین کے لیے ہے جیسے قرآن کریم میں جگہ جگہلَعَلَّفرمایا گیا اور دیکھنے سے مراد ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنا ہے،ورنہ حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم بعد وفات بھی عالم کے ذرہ ذرہ کو ملاحظہ فرمارہے ہیں جس پر بہت دلائل قائم ہیں،دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول انہی الفاظ کی بنا پر اس حج کا نام حجۃ الوداع ہوا کہ حضور نے اس میں اپنے وداع کی خبر دی اور امت کو وداع فرمایا اور ہوا بھی ایسا ہی کہ چند ماہ بعد یعنی بارہویں ربیع الاول کو وفات ہوگئی۔خیال رہے کہ ذی الحجہ ۱۰ھ میں حجۃ الوداع ہوا اور ربیع الاول ۱۱ھ میں وفات تین مہینہ بعد ۔
۳
؎اس میں مصنف پر دو اعتراض ہیں:ایک یہ کہ مصنف ترمذی کی حدیث فصل اول میں لے آئے،یہ ان کے قاعدہ کے خلاف ہے وہ فصل اول میں صرف شیخین کی روایات لاتے ہیں۔دوسرے یہ کہ روایت ترمذی کی بھی ترتیب الفاظ بدلی ہوئی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2611