Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2610

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وعَنْهُ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا: «عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ» وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهٗ حَتّٰى دَخَلَ مُحَسَّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمٰى بِهِ الجَمْرَةَ» . وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتّٰى رَمَى الْجَمْرَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه عن الفضل بن عباس وكان رديف النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال في عشية عرفة وغداة جمع للناس حين دفعوا: «عليكم بالسكينة» وهو كاف ناقته حتى دخل محسرا وهو من منى قال: «عليكم بحصى الخذف الذي يرمى به الجمرة» . وقال: لم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى الجمرة. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے وہ حضرت فضل ابن عباس سے راوی وہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ردیف تھے کہ حضور انور نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کے سویرے جب لوگ روانہ ہوئے تو ان سے فرمایا سکون اختیار کرو حضور خود بھی اپنی اونٹنی کی لگام کھینچے ہوئے تھے ۱؎حتی کہ وادی محسر میں داخل ہوگئے جو منٰی کا ہی حصہ ہے ۲؎فرمایا کنکریاں چن لو ٹھیکریوں کی طرح جن سے جمرہ کو مارا جائے ۳؎اور فرمایا کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم جمرہ کی رمی تک تلبیہ کہتے رہے۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان دونوں روانگیوں میں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حجاج کو اطمینان سے آہستہ چلنے کا حکم دیا عرفہ سے مزدلفہ آتے وقت اور پھرصبح کو مزدلفہ سے منٰی آتے وقت اگر یہ اطمینان نہ ہو تو بہت لوگ کچل کر مرجائیں،اب تو بسیں چلتی ہیں مگر وہ بھی دو تین میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پھر بھی ٹھہرتی ہوئی۔
۲
؎یہ راوی کی تفسیر ہے علماء کے اس کے متعلق مختلف خیال ہیں۔بعض کے نزدیک یہ منٰی میں داخل ہے بعض کے خیال میں مزدلفہ میں بعض کہتے ہیں کہ یہ ان دونوں کے درمیان برزخ ہے،یہ تیسرا قول ہی قوی ہے اور اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ وہ منٰی سے قریب ہے۔ (لمعات،اشعہ و مرقات)منٰی جمرہ عقبہ سے وادی محسر تک کے علاقہ کا نام ہے اس طرح یہ دونوں حدود منٰی سے خارج ہیں۔(مرقات)
۳
؎خذفچٹکی سے پھینکنے کو کہتے ہیں پھرٹھیکری کو کہنے لگے کہ وہ چٹکی سے ہی پھینکی جاتی ہے ان کنکروں کی مقدار باقلا کے دانہ کے برابر چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ وادی محسر سے چنے جائیں اگر مزدلفہ سے ہی چن لیے گئے تب بھی جائز ہے ستر۷۰ کنکر لیے جائیں جو سات دسویں ذی الحجہ کو کام آویں اور ۶۳ گیارہویں، بارہویں، تیرھویں کو کیونکہ آج صرف جمرہ عقبہ کی رمی ہوگی،ان تواریخ میں تینوں جمروں کی ہر جمرہ پر سات کنکر،بعض بے وقوف بڑے بڑے پتھر بلکہ جوتے مارتے ہیں اور شیطان کو گالیاں دیتے جاتے ہیں،یہ جہالت ہے،خیال رہے کہ یہاں جمرہ سے مراد جنس جمرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2610