Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2609

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهٖ.(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: أنا ممن قدم النبي صلى الله عليه وسلم ليلة المزدلفة في ضعفة أهله.(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مزدلفہ کی رات ضعیف بال بچوں کے ساتھ آگے بھیج دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ضَعَفَۃٌجمعضعیفکی ہے بمعنی کمزور،اس سے مراد چھوٹے بچے اور عورتیں ہیں یعنی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے دسویں بقر عید کی رات میں اپنے گھر والی بیبیاں اور چھوٹے بچے رات ہی میں مزدلفہ سے منٰی روانہ کردیئے تاکہ صبح کو بھیڑ بھاڑ میں تکلیف نہ ہو اور یہ حضرات منٰی میں پہلے پہنچ کرآرام سے خیمہ میں پہنچ جائیں،اب بھی یہ جائز ہے مگر طاقتور لوگوں کو یہ ساری رات مزدلفہ میں گزارنی ہوگی،بعد نماز فجر سورج نکلنے سے کچھ پہلے یہاں سے روانہ ہوں گے۔مسلم،بخاری میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللّٰہ عنہا بھاری جسم تھیں وہ بھی نصف رات کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہوگئیں حضور سے پوچھ کر،یہ عذر کی بنا پر اجازت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2609