Main Icon

باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2605

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهٗ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهٗ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهٖ إِلَيْهِمْ وَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالإِيضَاعِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عباس أنه دفع مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فسمع النبي صلى الله عليه وسلم وراءه زجرا شديدا وضربا للإبل فأشار بسوطه إليهم وقال: «يا أيها الناس عليكم بالسكينة فإن البر ليس بالإيضاع» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ واپس ہوئے ۱؎نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے پیچھے اونٹوں کو سخت ڈانٹ ڈپٹ اور مار سنی ۲؎تو انہیں اپنے کوڑے سے اشارہ فرمایا اور حکم دیا کہ اے لوگو اطمینان اختیار کرو تیز دوڑنے میں خوبی نہیں ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عرفات سے مزدلفہ کی طرف چلے دسویں ذوالحجہ کی شب کو،چونکہ یہ شب بھی نویں تاریخ میں داخل ہے اس لیے اسے یوم عرفہ فرمایا گیا،بعض لوگوں نے یوم عرفہ سے دھوکا کھایا اور منٰی سے عرفات کی روانگی سمجھے یہ غلط ہے۔ (مرقات)دسویں ذی الحجہ کی شب میں جو عرفات پہنچ جائے اسے حج مل جاتا ہے۔
۲
؎کہ حجاج اونٹوں کو دوڑانے کے لیے انہیں ڈانٹ ڈپٹ و مار کررہے تھے۔
۳
؎یعنی اس جگہ اونٹ دوڑانا ثواب نہیں بلکہ خطرہ ہے کہ گناہ بن جائے کہ ہجوم زیادہ ہے تیز دوڑانے میں حجاج کے کچل جانے چوٹ کھا جانے کا خطرہ ہے،بلکہ ثواب تو اطمینان سے اراکان ادا کرنے میں ہے،اب بھی حجاج کو چاہیے کہ وہ بھاگ دوڑ سے بچیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2605