Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2618

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلٰى رَاحِلَتِهٖ يَوْمَ النَّحْرِ وَيَقُولُ: «لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هٰذِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن جابرقال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يرمي على راحلته يوم النحر ويقول: «لتأخذوا مناسككم فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن اپنی سواری پر رمی کر تے دیکھا ۱؎آپ فرماتے جاتے تھے اپنےارکان حج سیکھ لو مجھے خبر نہیں شاید میں اس حج کے بعد حج نہ کروں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎تمام آئمہ کے ہاں سواری پر رمی کرنا جائز ہے البتہ افضلیت میں فرق ہے،امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ جس رمی کے بعد اوربھی رمی ہو وہ رمی پیادہ افضل کیونکہ اس وقت دعا مانگنا سنت ہے اور دعا میں خشوع خضوع پیادہ ہونے سے زیادہ ہوگا اور جس رمی کے بعد دوسری رمی نہیں وہ سواری پر افضل کیونکہ اس کے بعد کوئی دعا نہیں،یہ مسئلہ امام ابویوسف نے اپنے نزع کی حالت میں ابراہیم ابن جراح کے سوال پر بیان فرمایا اور اس پر اسی وقت آپ کا انتقال ہوگیا،طرفین کے ہاں تمام رمی اس حدیث کی وجہ سے سوار ہوکر افضل،امام ابو یوسف نے اس سواری کو تعلیم پر معمول فرمایا،امام شافعی کے ہاں دسویں ذی الحجہ کو اگر منٰی میں سوار ہوکر پہنچا تو سوار ہوکر رمی افضل اور اگر پیادہ پہنچا تو رمی پیادہ افضل۔گیارہویں،بارہویں کو پیادہ افضل اور تیرھویں کو سوار افضل۔واللّٰه اعلم!(مرقات،اشعہ و لمعات) خلفاءراشدین کا عمل مختلف رہا ہے،بعض نے پیدل رمی کی بعض نے سواری پر۔
۲
؎یعنی مجھے خبر ہے کہ میری وفات قریب ہے اگلا حج میری زندگی میں نہ آئے گا مگر یہ خبر درایت یعنی اٹکل و قیاس سے نہیں بلکہ وحی الٰہی سے ہے اس لیےلَااَدْرِیبھی فرمایا اورلا احجبھی۔ درایت اٹکل و قیاس کے علم کو کہتے ہیں اسی لیے خدا کے علم کو درایت نہیں کہا جاتا،رب تعالٰی فرماتاہے:" مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ"۔تم اٹکل و قیاس سے کتاب و ایمان کو نہیں جاتے تھے ورنہ نبی کبھی ایمان سے بے خبر نہیں ہوتے،عیسٰی علیہ السلام نے پیدا ہوتے ہی فرمایا تھاانی عبداللّٰہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2618