Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2622

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الِاسْتِجْمَارُ تَوٌّ وَرَمْيُ الْجِمَارِ توٌّ وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ تَوٌّ وَالطَّوَافُ تَوٌّ وَإِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ بِتَوٍّ».رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الاستجمار تو ورمي الجمار تو والسعي بين الصفا والمروة تو والطواف تو وإذا استجمر أحدكم فليستجمر بتو».رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے استنجا طاق بار ہے ۱؎جمروں کی رمی طاق بار اور صفا مروہ کے درمیان دوڑنا طاق بار اور طواف طاق بار۲؎اور جب تم میں سے کوئی ڈھیلے لے تو طاق بار۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حکم استحبابی ہے یعنی پاخانہ کے استنجاء میں تین ڈھیلے مستحب ہیں یا میت کے کفن کو دھونی تین بار دینا مستحب ہے،استجمار کے دونوں معنی ہیں۔(اشعہ)
۲
؎جمرہ کی رمی اور صفا مروہ کی دوڑ سات بار واجب ہے لیکن طواف کے چار چکر فرض ہیں باقی تین واجب یہ مذہب احناف ہے،دیگر آئمہ کے ہاں ساتوں فرض۔
۳
؎یہ کلام مکرر نہیں کیونکہ پہلےاستجمارسے دھونی مراد ہے یہاں ڈھیلے یا اس کے برعکس۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2622