Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2621

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهٗ اِنْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرٰى فَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهٖ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهٖ وَرَمٰى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَالَ: هٰكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود: أنه انتهى إلى الجمرة الكبرى فجعل البيت عن يساره ومنى عن يمينه ورمى بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة ثم قال: هكذا رمى الذي أنزلت عليه سورة البقرة(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللّٰه ابن مسعود سے کہ وہ بڑے جمرہ پر پہنچے تو بیت اللّٰه کو اپنے بائیں اور منٰی کو اپنے دائیں رکھا اور سات کنکریاں ماریں ۱؎کہ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے پھر فرمایا اسی طرح انہوں نے رمی کی جن پر سورۂ بقرہ اتری ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ نے جمرہ عقبہ کی اس رخ پر کھڑے ہوکر رمی کی اور باقی جمرہ کی روبقبلہ ہوکر،یہی ہمارے ہاں مستحب ہے جمہور کا یہی قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،بعض کے نزدیک ہر جمر ہ کی رمی رو بقبلہ ہوکر کی جائے،امام شافعی کے ہاں جمرہ عقبہ کی رمی کعبہ کو پشت کر کے کی جائے،یہ حدیث ان سب کے خلاف ہے۔
۲
؎ساتھ سے مراد متصل ہے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ ہرکنکری کے بعد تکبیر کہی، رب تعالٰی بلقیس کا قول نقل فرماتا ہے"اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیۡمٰنَ"یہاں بھی معیت سے اتصال مراد ہے،سیدنا عبداللّٰه ابن عمر ہر کنکر پر یہ پڑھتے تھے "اللّٰه اکبر اللّٰه اکبرα اَللّٰهُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَبْرُوْرًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا وَ عَمَلًا مَشْکُوْرًا"اور فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا،چونکہ ارکان حج زیادہ سورۂ بقر میں ہیں اس لیے سورۂ بقر کا ذکر کیا ورنہ حضور پر سارا ہی قرآن اترا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2621