Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2626

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقِفُ عِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ وُقُوفًا طَوِيلًا يُكَبِّرُ اللّٰهَ وَيُسَبِّحُهٗ وَيَحْمَدُهٗ وَيَدْعُو اللّٰه وَلَا يَقِفُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ. رَوَاهُ مَالِكٌ

عن نافع قال: إن ابن عمر كان يقف عند الجمرتين الأوليين وقوفا طويلا يكبر الله ويسبحه ويحمده ويدعو الله ولا يقف عند جمرة العقبة. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر پہلے دو جمروں کے پاس بہت دراز ٹھہرتے تھے ۱؎اللّٰه کی تکبیر،تسبیح اور حمدکرتے رہتے تھے،اللّٰه سے دعا مانگتے رہتے اور جمرہ عقبہ کے پاس نہ ٹھہرتے ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جمرہ اولٰی اور جمرہ وسطی کی رمی کے بعد بقدر سورۂ بقرٹھہرکر دعائیں کرتے تھے،اسی طرح کہ دونوں جگہ کے قیام سورۂ بقر کی تلاوت کے بقدر ہوتے،ان دونوں جگہ میں تمام اماموں کے نزدیک ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگنا سنت ہے،امام مالک کے ہاں ہاتھ اٹھانا منع،شاید انہیں ہاتھ اٹھانے کی حدیث نہ پہنچی،یہ حدیث بخاری میں ہے۔
۲
؎یعنی جمرہ عقبہ کی رمی کے بعدٹھہرکر دعا نہ مانگتے تھے ٹھہرنے کی نفی ہے نہ کہ دعا مانگنے کی،جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد نہ دسویں ذی الحجہ کو ٹھہرتے تھے نہ اس کے بعد۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2626