Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2623

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي يَوْمَ النَّحْرِ عَلٰى نَاقَةٍ صَهْبَاءَ لَيْسَ ضَرْبٌ وَلَا طَرْدٌ وَلَيْسَ قِيلُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

عن قدامة بن عبد الله بن عمار قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يرمي يوم النحر على ناقة صهباء ليس ضرب ولا طرد وليس قيل: إليك إليك. رواه الشافعي والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت قدامہ ابن عبداللّٰه ابن عمار سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو بقرعید کے دن سرخ اونٹنی پر رمی کرتے دیکھا۲؎نہ اونٹنی کو مار تھی نہ ہانک اور نہ ہٹو بچو فرمانا۳؎(شافعی،ترمذی،ابن ماجہ،نسائی،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مکہ معظمہ کے باشندے قدیم الاسلام صحابی ہیں،ہجرت نہ کرسکے،حجۃ الوداع میں حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے ساتھ تھے،قبیلہ بنی کلاب یا بنی عامر سے ہیں۔
۲
؎صہباء اصہبکا مؤنث ہے۔اصہب وہ اونٹ ہے جس کے بالوں کی نوکیں سرخ ہوں،جڑیں وغیرہ سفید،یعنی حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم ایسی اونٹنی پر سوار تھے جس کے بال ایسے تھے،غالبًا یہ اونٹنی قصوا تھی۔(لمعات)
۳
؎یعنی جیسے امراء و سلاطین عمومًا لوگوں کو ہٹاتے بچاتے ہوئے اپنی سواری بڑھاتے ہیں،یہ عمل حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کا نہ تھا،یہ سب ہم کو مساوات سکھانے کے لیے ہے،حج نماز وہ عبادات ہیں جو شاہ و گدا کو ایک کردیتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2623