Main Icon

باب:رمی جمروں کی - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2620

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: رَمٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى وَأَمَّا بَعْدَ ذٰلِكَ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: رمى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمرة يوم النحر ضحى وأما بعد ذلك فإذا زالت الشمس(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بقر عید کے دن دوپہر کے وقت جمرہ کی رمی کی مگر اس کے بعد سورج ڈھل جانے پر ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دسویں ذی الحجہ کو زوال سے پہلے رمی کرلے اور گیارھویں بارہویں کو زوال کے بعد،فتح القدیر میں ہے کہ ان دو تاریخوں میں زوال سے پہلے رمی کا وقت ہوتا ہی نہیں،ہاں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ سے ایک غیر مشہور سی روایت ہے کہ ان دو دنوں میں زوال کے بعد رمی افضل ہے اور پہلے بھی جائز۔بخاری شریف میں عبداللّٰه ابن عمر سے روایت ہے کہ ہم تمام صحابہ سورج ڈھلنے کا انتظارکرتے تھے،ڈھلنے پر رمی کرتے تھے،امام ماوردی نے اس جگہ مسئلہ اجماع بیان فرمایا،تیرھویں ذی الحجہ کو بالاتفاق زوال سے پہلے بھی جائز ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2620