Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4294

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جَنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَخَلَّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ وَلَوْ أَنْ تَعْرِضُوا عَلَيْهِ شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا كان جنح الليل أو أمسيتم فكفوا صبيانكم فإن الشيطان ينتشر حينئذ فإذا ذهب ساعة من الليل فخلوهم وأغلقوا الأبواب واذكروا اسم الله فإن الشيطان لا يفتح بابا مغلقا وأوكوا قربكم واذكروا اسم الله وخمروا آنيتكم واذكروا اسم الله ولو أن تعرضوا عليه شيئا، وأطفئوا مصابيحكم»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب رات کا شروع حصہ ہوجائے ۱؎یا تم شام پاؤ تو اپنے بچوں کو روک لو ۲؎کیونکہ اس وقت شیطان پھیلتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جاوے تو بچوں کو چھوڑ دو ۳؎اور دروازے بندکردو اور اللہ کا نام لو۴؎کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا ۵؎اور اپنے مشکیزوں کو بندھن دے دو اللہ کا نام لو ۶؎اور اپنے برتنوں کو ڈھک دو اور اللہ کا نام لو اگرچہ اس پر کوئی چیز کھڑی کردو ۷؎اور اپنے چراغ کو بجھا دو ۸؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جنحج کے فتحہ ن کے جزم سے بمعنی حصہ اور شروع اور تاریکی۔(مرقات)یہاں سارے معنی درست ہیں رات کا شروع حصہ یا رات کی اندھیری۔راوی کو شک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےجنح اللیلفرمایا یا فرمایاامسیتم۔مقصد قریبًا ایک ہی ہے۔
۲
؎یعنی اس وقت بچوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دو۔شیطان سے مراد موذی جنات اور موذی انسان دونوں ہیں۔(اشعہ)شام کے وقت ہی بچوں کو اغواء کرنے والے زیادہ پھرتے ہیں۔ شیطان سے مراد موذی خبیث جن ہیں ورنہ ایک شیطان تو ہر وقت انسان کے ساتھ رہتا ہے جسے قرین کہتے ہیں لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں جن میں قرین کے ہر وقت ساتھ رہنے کا ذکر ہے ۔
۳
؎کیونکہ اب ان شیاطین کا زور گھٹ جاتا ہے وہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ جاتے ہیں اب اگر بچے باہر نکلیں تو حرج نہیں۔ معلوم ہوا جنات و شیاطین کا اثر بچوں پر زیادہ ہوتا ہے اس لیے بچوں کو نکلنے سے روکا گیا ہے۔
۴
؎یعنی جب رات کو سونے لگو تو دروازے بندکرکے سوؤ اور بندکرتے وقت بسم اللہ پڑھ لیاکرو،اس کی حکمت ابھی آگے بیان ہورہی ہے۔
۵
؎بند دروازے سے مراد وہ ہے جو بسم اللہ سے بند کیا گیا ہو بغیر ذکر اللہ بند کیے ہوئے کے اندر شیطان آسکتا ہے،ان کی روک کے لیے دروازہ بند ہونا اور بسم اللہ پر بند ہونا ضروری ہے بسم اللہ باطنی قفل۔
۶
؎یعنی پانی کے بھرے مشکیزے کا منہ ڈوری سے باندھ دو یوں ہی کھلا نہ چھوڑو۔
۷
؎یہ مجبوری کی حالت میں ہے جب کہ کوئی چیز گھڑا وغیرہ ڈھکنے کے لیے نہ ملے۔اس لکڑی اور بسم اللہ کی برکت سے برتن شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا۔
۸
؎چراغ سے مراد بتی والا چراغ ہے جس کی بتی چوہا وغیرہ کھینچ سکے،لالٹین یا بجلی اس حکم سے خارج ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے۔بند گھر میں جلتی لالٹین چھوڑنا بھی خطرناک ہے اس سے گیس پھیل جانے کا خطرہ ہوتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4294