Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4296

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أنْ يَعْرِضَ عَلٰى إِنائِهٖ عُوْدًا وَيَذْكُرَ اسْمَ اللّٰهَ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلٰى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ»

وفي رواية لمسلم قال: غطوا الإناء وأوكوا السقاء وأغلقوا الأبواب وأطفئوا السراج فإن الشيطان لا يحل سقاء ولا يفتح بابا ولا يكشف إناء فإن لم يجد أحدكم إلا أن يعرض على إنائه عودا ويذكر اسم الله فليفعل فإن الفويسقة تضرم على أهل البيت بيتهم»

حدیث ترجمہ

اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو ۱؎دروازے بند کردو اور چراغ بجھادو ۲؎کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے نہ برتن کھولتا ہے۳؎پھر اگر تم میں سے کوئی نہ پائے مگر یہ کہ اپنے برتن پر لکڑی کھڑی کردے اور اللہ کا نام لے آوے تو یہ ہی کرے۴؎کیونکہ چوہیا گھر والوں پر ان کا گھر بھڑکا دیتی ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بھی برتنوں سے مراد وہ برتن ہیں جن میں کھانے پینے کی چیزیں ہوں،یوں ہی مشکیزے سے مراد وہ مشکیزے ہیں جن میں پانی یا نبیذ وغیرہ ہوں۔
۲
؎یہاں بھی چراغ سے مراد کھلا چراغ ہے جس کی بتی چوہا کھینچ سکے،موجودہ بجلی کی روشنی اس حکم سے خارج ہے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔
۳
؎یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے ان شیاطین کو یہ قدرت نہیں دی کہ ان چیزوں کو کھول سکیں جیسے شیطان اس کھانے کو نہیں کھاسکتا جو بسم اللہ پڑھ کر کھایا جائے لہذا حدیث شریف بالکل ظاہر معنی پر ہے اس میں کسی تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں۔
۴
؎یعنی اگر برتن ڈھکنے کے لیے کوئی ڈھکنا نہ ملے تو اس پر اللہ کا نام لے کر لکڑی کھڑی کردو وہ برتن اس لکڑی اور اللہ کے ذکر کی وجہ سے ان بلاؤں سے محفوظ رہے گا۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا مستحب ہے واجب نہیں،اس میں بہت ہی منافع اور فوائد ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4296