Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4301

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: اِحْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلٰى أَهْلِهٖ مِنَ اللَّيْلِ فَحُدِّثَ بِشَأْنِهٖ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ هٰذِهِ النَّارَ إِنَّمَا هِيَ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوْهَا عَنْكُمْ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي موسى قال: احترق بيت بالمدينة على أهله من الليل فحدث بشأنه النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن هذه النار إنما هي عدو لكم فإذا نمتم فأطفئوها عنكم(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک گھر مع گھر والوں کے رات میں جل گیا ۱؎اس واقعہ کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو فرمایا کہ یہ آگ تمہاری دشمن ہے ۲؎تم جب سونے لگو تو اسے اپنے سے بجھا دیا کرو ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ گھر مع گھر والوں کے جل گیا یا گھر جل کر ان لوگوں پر گر گیا۔غرضیکہ گھر والے بھی ہلاک ہوگئے خواہ جل کر یا دب کر۔
۲
؎کیونکہ آگ ہمارے بدن ہمارے مال کی ہلاکت کا ذریعہ ہے،اگر احتیاط سے برتی جائے تو مفید ہے ورنہ ہلاکت۔اسے دشمن فرمانا اس معنی سے ہے یعنی بے احتیاطی سے برتی جائے تو دشمن ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آگ تو بڑی مفید چیز ہے۔حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے حد سے بڑھ کر مضر۔ہم بھی حد میں رہیں تو اچھے ورنہ حد سے بڑھ جائیں تو خود اپنے دشمن ہیں۔اللہ تعالیٰ حد میں رکھے۔
۳
؎یہ حکم بطور مشورہ ہے لہذا استحبابی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4301