Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4295

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَ: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِنَّ لِلْجَنِّ انْتِشَارًا وخَطْفَةً، وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتِ الفَتِيلَةَ فَأَحْرَقَتْ أَهْلَ الْبَيْتِ»

وفي رواية للبخاري: قال: «خمروا الآنية وأوكوا الأسقية وأجيفوا الأبواب واكفتوا صبيانكم عند المساء فإن للجن انتشارا وخطفة، وأطفئوا المصابيح عند الرقاد، فإن الفويسقة ربما اجترت الفتيلة فأحرقت أهل البيت»

حدیث ترجمہ

اور بخاری کی روایت میں ہے فرمایا برتن ڈھک دو اور مشکیزوں کو بندھن دے دو اور دروازے بند کردو اور اپنے بچوں کو روک لو شام کے وقت کیونکہ جنات کا پھیلاؤ اور چھین جھپٹ کا وقت ہے ۱؎اور سوتے وقت چراغوں کو گل کردو کیونکہ بہت بار چوہیا بتی کھینچ لے جاتی ہے تو گھر والوں کو جلا دیتی ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہاں چھین جھپٹ سے مراد ان کو دیوانہ کردینا ان پر مسلط ہوجانا ہے۔ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن پر جن آجاتے ہیں ان کو پریشان کرتے ہیں دیوانہ بنادیتے ہیں۔جنات کا یہ تصرف قرآن کریم سے ثابت ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"۔جیسے سانپ بچھو وغیرہ زہریلے جانور انسان کو نقصان پہنچاسکتے ہیں ایسے ہی شیطان بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں ،یہ اثرات بھی بالکل حق ہیں۔
۲
؎یہاںفویسقہسے مراد موذی جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کردے۔چوہا،چیل،کوّا،بچھو، دیوانہ کتا سبفویسقیعنی موذی ہیں اس لیے ان کو حرم شریف میں بھی اور حالت احرام بھی قتل کرسکتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4295