Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4298

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: قَالَ: غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيْهِ مِنْ ذٰلِكَ الْوَبَاءِ

وفي رواية له: قال: غطوا الإناء وأوكوا السقاء فإن في السنة ليلة ينزل فيها وباء لا يمر بإناء ليس عليه غطاء أو سقاء ليس عليه وكاء إلا نزل فيه من ذلك الوباء

حدیث ترجمہ

اور اس کی ایک روایت میں یوں ہے فرمایا کہ برتن ڈھک دو اور مشکیزے باندھ دو کیونکہ سال میں ایک رات ہے جس میں وبائیں اترتی ہیں ۱؎نہیں گزرتیں کسی ایسے برتن پر جس پر ڈھکنا نہ ہو مگر اس وباء میں سے اس میں اتر جاتی ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب یہ ہے کہ عمومًا ہر رات شیاطین کا پھیلاوا اول شب میں ہوتا ہے اور سال میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جس میں خصوصی بلائیں نازل ہوتی ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ان احادیث میں یہ عمومی بلاؤں کا ذکر تھا جو روزانہ شروع رات میں آتی ہیں اور اس حدیث میں خاص ان بلاؤں کا ذکر ہے جو سال میں ایک رات آتی ہے۔
۲
؎منبیانیہ ہے نہ کہ تبعیضیہ لہذا اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بلا ان برتنوں میں داخل ہوجاتی ہے جن پر ڈھکنا نہ ہو۔نووی نے فرمایا کہ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ہر آفت سے بچاؤ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے مسلمان ہر وقت ہر حال میں اللہ کا ذکر کرے،دنیا زہر ہے ذکر اللہ اس کا تریاق۔(مرقات)تر لکڑی آگ میں نہیں جلتی،اللہ کے ذکر سے تر زبانان شاء اللهدوزخ اور آفات کی آگ سے نہ جلے گی۔مؤمن سوتے جاگتے،جیتے،مرتے اللہ کا ذکر کرے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4298