Main Icon

باب:برتن وغیرہ ڈھکنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4297

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ: قَالَ:لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتّٰى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يُبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتّٰى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءَ

وفي رواية له: قال:لا ترسلوا فواشيكم وصبيانكم إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء فإن الشيطان يبعث إذا غابت الشمس حتى تذهب فحمة العشاء

حدیث ترجمہ

اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ اپنے جانور اور بچے نہ چھوڑو ۱؎جب کہ سورج ڈوب جائے حتی کہ رات کی سیاہی جاتی رہے ۲؎کیونکہ جب سورج ڈوب جاتا ہے تو شیاطین چھوڑ دیئے جاتے ہیں حتی کہ رات کی یہ سیاہی جاتی رہے۔

شرح حدیث

۱∞؎فواشیجمع ہےفاشیۃکی،عربی میں چھوٹے ہوئے جانور کوفاشیہکہتے ہیں خواہ جنگل میں چھوٹا ہوا ہو یا بستی میں کھلا پھرتا ہو پھر مطلقًا جانوروں کوفواشیکہا جانے لگا وہ ہی یہاں مراد ہے یعنی مغرب و عشاء کے درمیان اپنے جانور اور بچے کھلے نہ پھرنے دو۔
۲
؎یعنی رات کے شروع حصہ کی سیاہی ختم ہوجاوے اور اس کی اصلی سیاہی آجاوے،مغرب عشاء کے درمیان آسمان پر سیاہی ہوتی ہے مگر مغربی کنارہ پر سرخی یا سفیدی ہوتی ہے۔یہاںفحمہسے یہ ہی سیاہی مراد ہے اور جب عشاء کا وقت آتا ہے تو یہ خالص سیاہی ہر طرف چھا جاتی ہے کسی جگہ سرخی یا سفیدی کا نام نہیں ہوتا لہذا حدیث واضح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4297