Main Icon

باب : امام پر لازم امور - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1129

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ كَانَ يَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَيُخَفِّفُ مَخَافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهٗ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس قال: ما صليت وراء إمام قط أخف صلاة ولا أتم صلاة من النبي صلى الله عليه وسلم وإن كان يسمع بكاء الصبي فيخفف مخافة أن تفتن أمه (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میں نے امام کے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھی جس کی نماز حضورنبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے ہلکی اور زیادہ پوری ہو ۱؎آپ بچے کے ر ونے کی آواز سنتے تو ہلکی کردیتے اس خوف سے کہ اس کی ماں گھبرا جائے گی ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی جماعت کی نماز دراز نہ ہوتی تھی اس کے باوجود کوئی مستحب تک نہیں چھوٹتا تھا ۔خیال رہے کہ ہلکی نماز سے یہ مراد نہیں کہ سنتیں چھوڑ دیں یا اچھی طرح ادا نہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان دراز نہ کرے بقدر کفایت ادا کرے جیسے رکوع سجدے کی تسبیحیں تین بار کہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کتنی ہی لمبی قرأت کرتے مگر مقتدیوں کو ہلکی ہی معلوم ہوتی تھی لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔
۲
؎چونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم کے پیچھے عورتیں بھی نماز پڑھتی تھیں جو اپنے بچوں کو گھر سلاکر آتی تھیں،جب گھروں سے ان کے رونے کی آواز آتی تو سرکار ان کی ماؤں کے خیال سے نماز ہلکی کرتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1129