Main Icon

باب : امام پر لازم امور - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1130

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِنِّي لَأَدْخُلُ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي مِمَّا أَعْلَمُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهٖ مِنْ بُكَائِهٖ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن أبي قتادة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إني لأدخل في الصلاة وأنا أريد إطالتها فأسمع بكاء الصبي فأتجوز في صلاتي مما أعلم من شدة وجد أمه من بكائه» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور اسے دراز کرنا چاہتا ہوں کہ بچے کی رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز میں اختصار کرتا ہوں کیونکہ اس کے رونے سے اس کی ماں کی سخت گھبراہٹ جان لیتا ہوں ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے دو مسئلے معلو م ہوئے:ایک یہ کہ نمازی کا باہر کی آواز سن لینا اور ا س کا لحاظ کرنا خشوع نماز کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ نماز میں غیر معین مقتدی کی رعایت کرنا درست ہے جیسے بعض صورتوں میں مقتدیوں کی وجہ سے نماز ہلکی کی جاسکتی ہے،ایسے ہی رکوع میں ملنے والوں یا وضو کرنے والوں کی وجہ سے نماز دراز کی جاسکتی ہے،کسی معین شخص کی نماز میں رعایت کرنا حرام بلکہ شرک خفی ہے۔یہ تو حضورصلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے کہ صدیق اکبر بحالت نماز آپ کو دیکھ کر مقتدی بن جاتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1130