Main Icon

باب : امام پر لازم امور - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1134

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: آخِرُ مَا عَهِدَ إِلٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ الصَّلَاةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهٗ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهٗ : «أُمَّ قَوْمَكَ» . قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا. قَالَ: «ادْنُهْ» . فَأَجْلَسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهٗ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ: «تَحَوَّلْ» . فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ كَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ: «أُمَّ قَوْمَكَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فيهم الْكَبِيْرَ وَإِنَّ فِيْهِمُ الْمَرِيضَ وَإِنَّ فِيْهِمُ الضَّعِيفَ وَإِنَّ فِيْهِمُ ذَاالحَاْجَةِ فَإِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ وَحْدَهٗ فَلْيُصَلِّ كَيْفَ شَاءَ»

عن عثمان بن أبي العاص قال: آخر ما عهد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم : «إذا أممت قوما فأخف بهم الصلاة» . رواه مسلم وفي رواية له : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له : «أم قومك» . قال: قلت يا رسول الله إني أجد في نفسي شيئا. قال: «ادنه» . فأجلسني بين يديه ثم وضع كفه في صدري بين ثديي ثم قال: «تحول» . فوضعها في ظهري بين كتفي ثم قال: «أم قومك فمن أم قوما فليخفف فإن فيهم الكبير وإن فيهم المريض وإن فيهم الضعيف وإن فيهم ذاالحاجة فإذا صلى أحدكم وحده فليصل كيف شاء»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد کیا تھا وہ یہ تھا کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ ۲؎(مسلم)اس کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں اپنے دل میں کچھ پاتا ہوں ۳؎فرمایا قریب آؤ مجھے اپنے سامنے بٹھایا اپنا ہاتھ میرے سینے پر دو پستانوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا پھرو تو اپنا ہاتھ میری پیٹھ میں دو کندھوں کے درمیان رکھا پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کرو ۴؎جو کسی قوم کا امام ہو تو نماز ہلکی پڑھائے کہ ان میں بڈھے بیمار مریض اور کمزور اور کام کاج والے ہیں اور جب کوئی نماز اکیلے پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ ثقفی ہیں،حضورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ اور عہد صدیقی و فاروقی میں طائف کے عامل رہے،حضورصلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد بنی ثقیف نے مرتد ہونا چاہا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ایمان میں آخر تھے کفر میں آگے کیوں ہوئے جاتے ہو اور سب کو ارتداد سے روک لیا۔
۲
؎غالبًا آپ کو طائف بھیجتے وقت آخری یہ وصیت فرمائی ہوگی۔
۳
؎امام بننے کی حالت میں کبرو غرور(نووی)یا وسوسے اور برے خیالات یا کمزوری جس کی وجہ سے امامت کی ہمت نہیں پڑتی، ہوسکتا ہے کہ تینوں ہی مراد ہوں۔
۴
؎حضورصلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ پھیرنے کی برکت سے آپ کے دل کی ساری بیماریاں جاتی رہیں،جرات و ہمت پیدا ہوئی تب یہ حکم دیا گیا۔معلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ دافع البلاء، مشکل کشا ہے،کیوں نہ ہو جب یوسف علیہ السلام کی قمیص یعقوب علیہ السلام کی آنکھ کی بیماریاں دور کرسکتی ہے تو سید الانبیاءصلی الله علیہ وسلم کا ہاتھ بلکہ آپ کا لعاب دہن آپ کے تبرکات قلب و قالب کی تمام بیماریاں ایک آن میں دفع کرسکتے ہیں،ان کے سہارے سے کمزور طاقت ور ہوجاتے ہیں اور کم ہمت دلیر صلی الله علیہ وسلم۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1134