Main Icon

باب : تسبیح کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1328

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: " يَا عَبَّاسُ يَا عَمَّاهُ أَلَا أُعْطِيكَ؟ أَلَا أَمْنَحُكَ؟ أَلَا أُخْبِرُكَ؟ أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشْرَ خِصَالٍ إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذٰلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ قَدِيمَهٗ وَحَدِيثَهٗ خَطَأَهٗ وَعَمْدَهٗ صَغِيرَهٗ وَكَبِيرَهٗ سِرَّهٗ وَعَلَانِيَتَهُ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً. فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ وَأَنْتَ قَائِمٌ قُلْتَ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا فَذٰلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ تَفْعَلُ ذٰلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيْهَا فِيْ كُلِّ يَوْمٍ مَرَّۃً فَافْعَلْ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمْرِكَ مَرَّةً ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعْوَاتِ الْكَبِيْرِ

عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: للعباس بن عبد المطلب: " يا عباس يا عماه ألا أعطيك؟ ألا أمنحك؟ ألا أخبرك؟ ألا أفعل بك عشر خصال إذا أنت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك أوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته: أن تصلي أربع ركعات تقرأ في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة. فإذا فرغت من القراءة في أول ركعة وأنت قائم قلت سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وأنت راكع عشرا ثم ترفع رأسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وأنت ساجد عشرا ثم ترفع رأسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع رأسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في أربع ركعات إن استطعت أن تصليها في كل يوم مرۃ فافعل فإن لم تفعل ففي كل جمعة مرة فإن لم تفعل ففي كل شهر مرة فإن لم تفعل ففي كل سنة مرة فإن لم تفعل ففي عمرك مرة ". رواه أبو داود وابن ماجه والبيهقي في الدعوات الكبير

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نےحضرت عباس ابن عبدالمطلب سے فرمایا کہ اے عباس اے چچا کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں کچھ عطا نہ کروں کچھ نہ بتاؤں کیا تمہارے ساتھ دس بھلائیاں نہ کروں ۱∞؎جب تم وہ کرلوتو الله تمہارے اگلےپچھلے نئےپرانے دانستہ یا نادانستہ چھوٹے بڑے چھپے کھلے گناہ معا ف کردے۲؎تم چار رکعتیں پڑھو ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھ لو۳؎جب تم پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہو تو کھڑے ہوکر پندرہ بار کہو"سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ؎پھر رکوع کرو تو رکوع میں دس بار یہ کہہ لو پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو دس بار کہہ لو پھر سجدہ میں جاؤ تو دس بارسجدہ میں کہہ لو پھرسجدہ سے اپنا سراٹھاؤ تو دس بار کہہ لو پھرسجدہ کرو تو دس بار کہہ لو پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو دس بار کہہ لو ۵؎یہ ایک رکعت میں پچھتر بار ہوئے ایسا چار رکعتوں میں کرلو ۶؎اگر کرسکو تو ہر دن میں یہ نماز ایک بار پڑھ لو ۷؎اگر نہ کرسکو تو ہر ہفتہ میں ایک بار ۸؎اگر یہ بھی نہ کرسکو تو ہرسال میں ایک بار ۹؎اگر یہ بھی نہ کرسکو تو عمر میں ایک بار۔(ابوداؤد،ابن ماجہ،بیہقی نےدعوات کبیرمیں)

شرح حدیث

۱∞؎حضورصلی الله علیہ وسلم نے یہ چند الفاظ جو قریبًا ہم معنی ہیں انہیں شوق دلانے کے لیئے ارشاد فرمائے تاکہ غور سے سنیں اور اس پر عمل کریں۔۲؎ظاہر یہ ہے کہ اس سے گناہ صغیرہ مراد ہیں کیونکہ گناہ کبیرہ اورحقوق العباد بغیرتوبہ اورحق ادا کیئے معاف نہیں ہوتے اور کبیرہ سے مراد اضافی کبیرہ ہیں کیونکہ صغیرہ میں بھی بعض گناہ بعض سے بڑے ہوتے ہیں اورممکن ہے اس سے یہ مراد ہو کہ نماز تسبیح کی برکت سے الله تعالٰی اسے گناہ کبیرہ سے توبہ کی توفیق عطا فرمادے گا جس سے وہ بھی معاف ہوجائیں گے۔۳؎حضرت ابن عباس سے پوچھا گیا کہ اس نماز میں کون سی سورتیں پڑھنا افضل ہیں؟تو فرمایاتَکَاثُرْ،عَصْر،قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَاورقُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ۔(ردالمحتار)۴؎ترمذی شریف میں بروایت عبد الله ابن مبارک یوں ہے کہسُبْحَانَ اللهِپڑھ کر پندرہ بار یہ تسبیح کہے اور قرأت سے فارغ ہوکر دس بار یعنی قیام میں پچیس بار کہے پندرہ بارقرأت سے پہلے اور دس بار اس کے بعد ہر رکعت میں یوں ہی کرے۔احناف کے نزدیک اسی پرعمل ہے۔دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت دس بار نہ کہے تاکہ رکن میں تاخیر نہ ہو۔۵؎یعنی دوسرےسجدے کے بعدقیام سےپہلے،مگر احناف کے ہاں اس موقعہ پر نہ پڑھے۔یہ دس بار قیام میں اداہوچکے۔اس طریقہ کی حدیث ترمذی شریف میں موجود ہے۔۶؎تاکہ کل تین سو بارہوجائیں۔اگرکسی رکن میں تسبیح پڑھنا بھول گیایاکم پڑھیں تو اس سےمتصل دوسرے رکن میں تعداد پوری کردے اوراگر اس نماز میں سجدہ سہو کرنا پڑگیا تو اس سجدے میں تسبیح نہ پڑھے۔(ردالمحتار)۷؎جس وقت چاہوغیرمکروہ وقت میں ادا کرو۔بہترہے کہ ظہر سے پہلے پڑھو۔۸؎جس دن چاہو،مگربہتر یہ ہے کہ جمعہ کے دن بعد زوال نماز سے پہلے پڑھےکیونکہ اس دن کی ایک نیکی ستر گناہ ہوتی ہے۔سیدنا عبد الله ابن عباس کا یہی قول ہے اور آپ کا اس پرعمل بھی تھا۔۹؎جب چاہولیکن اگر ماہ رمضان میں خصوصًا جمعہ کے دن یاستائیسویں رمضان پڑھے تو بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1328