Main Icon

باب : تسبیح کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1330

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهٖ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهٖ صَلَاتُه فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ وَأَنْجَحَ وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ فَإِنِ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهٖ شَيْءٌ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالٰى: أُنْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَيُكَمَّلُ بِهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ يَكُونُ سَائِرُ عَمَلِهٖ عَلیٰ ذٰلِكَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «ثُمَّ الزَّكَاةُ مِثْلَ ذٰلِكَ ثمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰی حَسْبِ ذٰلِكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " إن أول ما يحاسب به العبد يوم القيامة من عمله صلاته فإن صلحت فقد أفلح وأنجح وإن فسدت فقد خاب وخسر فإن انتقص من فريضته شيء قال الرب تبارك وتعالى: أنظروا هل لعبدي من تطوع؟ فيكمل بها ما انتقص من الفريضة ثم يكون سائر عمله علی ذلك ". وفي رواية: «ثم الزكاة مثل ذلك ثم تؤخذ الأعمال علی حسب ذلك» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ بندے کا وہ عمل جس کا قیامت کے دن پہلے حساب ہوگا وہ اس کی نمازہے ۱∞؎اگرنماز ٹھیک ہوگئی تو بندہ کامیاب ہوگیا اور نجات پاگیا اور اگر نماز بگڑ گئی تو محروم رہ گیا اور نقصان پاگیا اگر بندے کے فرضوں میں کمی ہوگی تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ دیکھو کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل ہیں ان سے فرض کی کمی پوری کردی جائے گی۲؎پھر بقیہ اعمال اسی طرح ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ پھر زکوۃ اسی طرح ہے پھر دوسرے اعمال اسی طرح کیے جائیں گے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ عبادات میں پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوق العباد میں پہلے قتل و خون کا یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ پہلےقتل اورخون کا حساب ہوگا یعنی اگر نماز کے حساب میں بندہ ٹھیک نکلا تو اگلےحساباِنْ شَاءَاللّٰهُآسان ہوں گے،اور اگر ان میں بندہ پھنس بھی جائے گا تو رب تعالٰی نمازوں کی برکتوں سے اس کے چھٹکارے کی سبیل پیدا فرمادے گا،مثلًا اگر اس کے ذمہ حقوق العباد ہیں تو حق والے کو جنت دے کر اسےمعاف کرادے گا اور اگرحقوق الله ہیں تو انہیں رحم خسروانہ اور الطاف شاہانہ سےخودبخش دے گا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نماز کے پابند کو گناہوں سے بچنے اور دوسری نیکیاں کرنے کی دنیا ہی میں توفیق مل جاتی ہے لہذا وہاں جس کی نمازیں ٹھیک نکلیں اس کے دوسرے اعمال خود بخود ٹھیک نکلیں گے۔غرض کہ حدیث بالکل صاف ہے اس پر چکڑالویوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔۲؎یہاں کمی سے ادا میں کمی مراد نہیں بلکہ طریقۂ ادا میں کمی مراد ہے یعنی اگرکسی نے فرائض ناقص طریقہ سے ادا کیئے ہوں گے تو وہ کمی نوافل سے پوری کردی جائے گی۔یہ مطلب نہیں کہ وہ بندہ فرض نماز نہ پڑھے نفل پڑھتا رہے اور وہاں نفل فرض بن جائیں۔(ازلمعات)لہذا حدیث پر چکڑالویوں کا اعتراض نہیں پڑ سکتا۔۳؎کہ فرائض کی کمی سنتوں اور نوافل سے پوری کی جائے گی،کمی کےمعنی ابھی عرض کیئے جاچکے کیوں نہ ہو کہ وہ سنتوں والے محبوب صلی الله علیہ وسلم ہماری کمی پوری کرنے ہی تشریف لائے ہیں۔گرتوں کو اٹھانا اور بگڑتوں کا بنانا انہیں کا کام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1330