Main Icon

باب : تسبیح کی نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1332

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا أَذِنَ اللهُ لَعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلیٰ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهٖ وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ» يَعْنِي الْقُرْآنَ. رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيْ

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما أذن الله لعبد في شيء أفضل من الركعتين يصليهما وإن البر ليذر علی رأس العبد ما دام في صلاته وما تقرب العباد إلى الله بمثل ما خرج منه» يعني القرآن. رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی نے بندے کو دو رکعتوں سے جنہیں وہ ادا کرے زیادہ تاکیدی حکم کسی اور چیز کا نہ دیا ۱∞؎اور جب تک بندہ نماز میں رہتاہےبھلائی اس کےسر پرنثارہوتی رہتی ہے۲؎اور بندہ رب کی طرف کسی چیز سے اتنا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا اپنے منہ سے ادا کیئے ہوئےیعنی قرآن۳؎(احمدوترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سارے احکام الہیہ میں نماز سب سے افضل ہے کیوں نہ ہو کہ یہ تلاوت قرآن،تسبیحوں،تکبیروں وغیرہ کا مجموعہ ہے۔۲؎خیال رہے کہ نماز کی تیاری،نماز کا انتظار،نماز کے بعددعا اور وظیفے سب نماز ہی میں داخل ہیں،جیساکہ گزشتہ روایات میں گزر چکا،لہذا ان تمام اوقات میں نمازی پر رحمتیں نچھاورہوتی رہیں گی۔اس نچھاور میں لطیف اشارہ اس جانب ہورہا ہے کہ نمازی کے پاس بیٹھنے والے اورنمازی کے خدمت گاربھی محروم نہیں ہوتے،دولہا کی بکھیر براتی لوٹتے ہیں۔شعر
چراغے زندہ مے خواہی درشب زندہ داران زن کہ بیداری بخت از بخت بیداراں شود پیدا
۳
؎یعنی بندے کے منہ سے جس طرح بھی قرآن ادا ہوجائے وہ قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بغیر سمجھے ہوئے قرآن پڑھنا بھی ثواب ہے۔دوسرے یہ کہ اگربلا ارادہ تلاوت الفاظ قرآن پاک منہ سےنکل جائیں تب بھی ثواب ملے گا اسی لیئے حضورصلی الله علیہ وسلم نےمَاخَرَجَفرمایا یعنی جیسے بھی ادا ہوجائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1332