Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1762

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

عن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها ونهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث فأمسكوا ما بدا لكم ونهيتكم عن النبيذ إلا في سقاء فاشربوا في الأسقية كلها ولا تشربوا مسكرا» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۲؎اب زیارت کیا کرو۳؎اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اب جب تک چاہو رکھو۴؎اور میں نے تمہیں مشکیزوں کے سواء میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب تمام برتنوں میں پیا کرو ہاں نشہ کی چیز نہ پینا ۵؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام بریدہ ابن حصیب اسلمی ہے،مشہور صحابی ہیں،بدر سے پہلے ایمان لائے مگر بدر میں شریک نہ ہوسکے،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدنی ہیں مگر بعد میں بصرہ قیام کیا،آخر میں خراسان چلے گئے تھے،پھر یزید ابن معاویہ کی طرف سے مرو میں غازی ہوکر گئے،وہاں ۶۲ھ میں وفات پائی۔(اکمال و مرقاۃ)۲؎شروع اسلام میں زیارت قبور مسلمان مَردوں عورتوں کو منع تھی کیونکہ لوگ نئے نئے اسلام لائے تھے،اندیشہ تھا کہ بت پرستی کے عادی ہونے کی وجہ سے اب قبر پرستی شروع کردیں،جب ان میں اسلام راسخ ہوگیا تو یہ ممانعت منسوخ ہوگئی،جیسے جب شراب حرام ہوئی تو شراب کے برتن استعمال کرنابھی ممنوع ہوگیا تاکہ لوگ برتن دیکھ کر پھر شراب یاد نہ کرلیں،جب لوگ ترک شراب کے عادی ہوگئے تو برتنوں کے استعمال کی ممانعت منسوخ ہوگئی۔۳؎یہ امر استحبابی ہے۔حق یہ ہے کہ اس حکم میں عورتوں بھی شامل ہیں کہ انہیں بھی زیارت قبر کی اجازت دی گئی۔(لمعات،اشعہ ومرقات)لیکن اب عورتوں کو زیارت قبور سے روکا جائے یعنی گھر سے زیارت قبور کے لیئے نہ نکلیں سوائے روضہ اطہر حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی قبر انور کی زیارت کو نہ جائیں،ہاں اگر کہیں جارہی ہوں اور راستہ میں قبر واقع ہو تو زیارت کرلیں جیساکہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حضرت عبدالرحمان کی قبر کی زیارت کی اور اگر کسی گھر میں ہی اتفاقًا قبر واقع ہو تو زیارت کرسکتی ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر میں حضور انورصلی الله علیہ وسلم کی قبر شریف تھی جہاں آپ مجاورہ منتظمہ تھیں۔خیال رہے کہزُوْرُوْامطلق امر ہے لہذا مسلمانوں کو زیارت قبر کے لیئے سفربھی جائز ہے۔جب ہسپتالوں اور حکیموں کے پاس سفرکرکے جاسکتے ہیں تو مزارات اولیاء پربھی سفرکرکے جاسکتے ہیں کہ ان کی قبور روحانی ہسپتال ہیں،نیز اگر کہیں قبر پر لوگ ناجائز حرکتیں کرتے ہوں تو اس سے زیارت قبور نہ چھوڑے،ہوسکے تو ان حرکتوں کو بندکرے کیونکہزُوْرُوْامطلق ہے،دیکھو حضورصلی الله علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے بتوں کی وجہ سے کعبہ نہ چھوڑا بلکہ جب موقعہ ملا تو بُت نکال دیئے۔آج بھی نکاح میں لوگ ناجائز حرکتیں کرتے ہیں مگر اس کی وجہ سے نہ نکاح بند کیئے جاتے ہیں نہ وہاں کی شرکت۔نکاح بھی سنت مطلقہ ہے اور زیارت قبور بھی سنت مطلقہ۔نکاح و زیارت قبور دونوں کے لیئے سفربھی درست ہے اور ناجائز امور کی وجہ سے ان میں شرکت ممنوع نہیں۔یہ دونوں مسائل شامی نے جلد اول باب زیارت قبور میں بہت تفصیل سے بیان فرمائے۔۴؎یعنی شروع اسلام میں مسلمانوں پر غربت اور افلاس کا غلبہ تھا اس لیے قربانی کرنے والوں کو حکم تھا کہ جس قدر گوشت تم تین دن کے اندر کھا سکو وہ کھا لو باقی غرباء میں خیرات کردو،پھر جب مسلمانوں کو رب نے مال عام دیا اور عام مسلمان قربانی کرنے لگے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا اب چاہے سال بھر تک قربانی کا گوشت کھاؤ۔۵؎یعنی جب شراب حرام ہوئی تو اندیشہ تھا کہ مسلمان شراب کے برتن دیکھ کر پھر شراب نوشی شروع کردیں گے اس لیے اس کے برتنوں میں پانی،دودھ یا شراب زلال جسے نبیذ کہتے ہیں پینا حرام کردیا گیا،پھر جب مسلمان شراب بھول گئے تب اس کے برتنوں کی اجازت دے دی گئی جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔اس حدیث میں تین چیزوں کی حرمت منسوخ کی گئی۔فتویٰ اس پر ہے کہ پتلی نشہ والی چیز مطلقًا حرام ہے نشہ دے یا نہ دے لہذا جَو،جوار اورکھجور وغیرہ کی شرابیں ایک قطرہ پینا بھی حرام ہے،امام اعظم کا یہ ہی آخری قول ہے۔جمی ہوئی نشہ آور چیزیں اگر نشہ دیں حرام یا انہیں طرب کے لیے کھانا حرام ہے ورنہ حلال۔چنانچہ افیون،بھنگ اور چرس وغیرہ دواءً استعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ نشہ نہ دیں۔اس کی مکمل بحثاِنْ شَاءَاللّٰهُ کتاب الاشربہمیں ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1762