Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1765

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورٍ بِالْمَدِينَةِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهٖ فَقَالَ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ يَغْفِرُ اللهُ لَنَا وَلَكُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

عن ابن عباس قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبور بالمدينة فأقبل عليهم بوجهه فقال: “السلام عليكم يا أهل القبور يغفر الله لنا ولكم أنتم سلفنا ونحن بالأثر” . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں کچھ قبروں پرگزرے تو ان کی طرف اپنا چہرہ پاک کیا ۱∞؎پھر فرمایا اے قبر والو تم پر سلام ہو، الله ہمیں اورتمہیں بخشے تم ہمارے اگلو ہو،ہم تمہارے پیچھے ۲؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی قبور کی طرف منہ کرکے اور قبلہ کو پشت کرکے کھڑے ہوئے،زیارت قبر کے وقت اسی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔(مرقاۃ)قبر کو چومنا ممنوع ہے،البتہ عالمگیری و مرقات میں اس جگہ ہے کہ والدین کی قبریں چومنا جائز ہے۔۲؎یعنی ہم سے آگے تم چلے گئے،تمہارے پیچھے ہم بھی آرہے ہیں۔متقدمین کو سلف کہتے ہیں متاخرین کو خلف۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1765