Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1767

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ تَعْنِي فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ قَالَ: " قُولِي: السَّلَامُ عَلیٰ أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالِمُسْلِمينَ وَيَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنها قالت: كيف أقول يا رسول الله ؟ تعني في زيارة القبور قال: " قولي: السلام علی أهل الديار من المؤمنين والمسلمين ويرحم الله المستقدمين منا و المستأخرين وإنا إن شاء الله بكم للاحقون ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے عرض کیا یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں زیارت قبور میں کیا کروں ۱∞؎فرمایا یوں کہا کرو کہ مؤمنوں مسلمانوں کے گھر والوں پر سلام ہو الله ہمارے اگلے پچھلوں پر رحم فرمائے اوراِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۔(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سےمعلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو زیارت قبور کی اجازت ہے۔وہ جوحدیث شریف میں ہے کہ خدا زیارت قبورکرنے والی عورتوں پر لعنت کرے وہ منسوخ ہے،دیکھو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کو زیارت قبور سے منع فرمایا،بلکہ انہیں اس کا طریقہ اور وہاں پڑھنے کی دعائیں سکھائیں۔بعض نے فرمایا کہ عام عورتوں کو زیارت قبور سے روکو جو وہاں رونا پیٹنا کریں،خاص عورتیں جنہیں اس کے احکام معلوم ہوں زیارت قبور کریں۔وَاللّٰہ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ!اس کی تحقیق ابھی کچھ پہلے ہوچکی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1767