Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1766

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى البَقِيعِ فَيَقُولُ: “السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعِدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما كان ليلتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج من آخر الليل إلى البقيع فيقول: “السلام عليكم دار قوم مؤمنين وأتاكم ما توعدون غدا مؤجلون وإنا إن شاء الله بكم لاحقون اللهم اغفر لأهل بقيع الغرقد » . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ان کے ہاں شب کی باری ہوتی تو آپ آخر رات میں بقیع کی طرف نکل جاتے ۱∞؎فرماتے اے مؤمن قوم کے گھر والو تم پر سلام،تم سے جس چیز کا وعدہ تھا وہ تمہیں مل گئی کل کی تمہیں مہلت دی ہوئی ہے۲؎اوراِنْ شَاءَاللّٰهُہم بھی تم سے ملنے والے ہیں۳؎خدایا بقیع غرقد والوں کو بخش دے۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوتاہے کہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم روزانہ آخری شب میں بقیع یعنی قبرستان مدینہ کی زیارت فرماتے تھے،اپنی باری کا ذکر اس لیئے فرماتی ہیں کہ آپ کے علم میں یہ ہی آیا۔عربی میں بقیع درخت والے میدان کو کہتے ہیں۔غرقد ایک خاص درخت کا نام ہے چونکہ اس میدان میں پہلےغرقد کے درخت تھے اسی لیئے اس جگہ کا نام بقیع الغرقد ہوگیا۔۲؎یعنی تمہارا وعدۂ موت پورا ہوچکا اور تم کو موت آچکی،اعمال کا ثواب کل قیامت میں ملے گا،ہماری ابھی موت بھی باقی ہے اور اجرو ثواب بھی۔اس صورت میں یہ دو جملے ہیں یا معنے یہ ہیں کہ جس اجرو ثواب کا تم سے وعدہ تھا وہ عنقریب یعنی کل قیامت میں تمہیں ملنے والا ہے،اس صورت میں یہ ایک جملہ ہےاَتَاکُمْماضی بمعنی مستقبل ہے،پہلےمعنے زیادہ موزوں ہیں۔۳؎یعنی وفات پاکر تم تک پہنچنے والے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ ہم بقیع میں دفن ہونے والے ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم کی قبر انور بقیع میں نہیں اپنے گھر شریف میں واقع ہوئی۔۴؎اس دعا کی وجہ سے بعض مؤمن بقیع میں دفن ہونے کی تمنا کرتے ہیں تاکہ اس خصوصی دعا میں وہ بھی شامل ہوجائیں۔دعا یہ ہے کہ الٰہی تمام بقیع والے مدفونوں کی مغفرت فرما۔رب تعالٰی اس پاک سرزمین میں دفن ہونا نصیب کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1766