Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1763

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهٖ فَبَكٰى وَأَبْكٰى مَنْ حَوْلَهَ فَقَالَ: «اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي وَاسْتَأْذَنْتُهٗ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: زار النبي صلى الله عليه وسلم قبر أمه فبكى وأبكى من حوله فقال: «استأذنت ربي في أن أستغفر لها فلم يؤذن لي واستأذنته في أن أزور قبرها فأذن لي فزوروا القبور فإنها تذكر الموت” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی ۱∞؎تو روئے اور اپنے اردگرد والوں کو رلایا۲؎پھر فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اس کی اجازت نہ دی گئی اور ان کی قبر شریف کی زیارت کی اجازت مانگی اس کی مجھے اجازت دے دی گئی ۳؎قبروں کی زیارتیں کیاکرو کہ یہ موت یاد دلاتی ہیں(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضور صلی الله علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ طیبہ طاہرہ آمنہ خاتون رَضِيَ اللهُ عَنْهَا کا مزار پر انوار مقام ابواء میں ہے جو مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیان پرانے رستہ میں واقعہ ہے۔حضورصلی الله علیہ وسلم کے والد ماجد سیدنا عبد الله رضی الله عنہ تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی ولادت پاک سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے،چھ سال تک حضور صلی الله علیہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کی آغوش پرورش میں رہے،حضرت آمنہ خاتون رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ایک مرتبہ اپنے ننھیال مدینہ منورہ گئیں،حضور انورصلی الله علیہ وسلم ساتھ تھے واپسی پر مقام ابواء میں بیمار ہوئیں اور وہاں ہی وفات پاگئیں،وہاں ہی مدفون ہوئیں،اس بیماری میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم آپ کا سر دباتے تھے اور روتے جاتے تھے،حضور صلی الله علیہ وسلم کے آنسو آپ کے چہرے پرگرے تو آنکھ کھولی اور اپنے دوپٹے سے آپ کے آنسو پونچھ کر بولیں دنیا مرے گی مگر میں کبھی نہیں مروں گی کیونکہ تم جیسا فرزند میں چھوڑ رہی ہوں جس کی وجہ سے مشرق و مغرب میں میرا چرچا رہے گا اس ولیہ وقت کا یہ قول نہایت درست ہوا۔۲؎یہ زیارت قبر انور کا واقعہ صلح حدیبیہ میں ہوا،حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار صحابہ تھے۔(مرقاۃ)آپ اپنی والدہ ماجدہ کے فراق میں روئے کہ آج وہ زندہ ہوتیں ہماری یہ شان دیکھ کر اپنا دل ٹھنڈا کرتیں۔صحابہ بھی آپ کے گریہ اور آپ کی والدہ کو یاد کرکے رونے لگے۔خدا مجھ گنہگار کو حضرت آمنہ کے مزار شریف کی زیارت نصیب کرے،تو ان کی قبر کی مٹی کو آنکھوں کا سرمہ بناؤں کیونکہ وہ میرے پیارے نبی مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی ماں ہیں،ان کے احسانات تمام جہاں پر ہیں رضی الله تعالٰی عنہا۔۳؎اس جملہ کی وجہ سے بعض لوگوں نےسمجھا کہ حضرت آمنہ خاتون کافرہ تھیں اسی لیے حضور صلی الله علیہ وسلم کو آپ کے لیے دعائے مغفرت سے منع کردیا گیا۔اس رو میں قاری بھی بہہ گئے،عام دیوبندی یہ ہی کہتے ہیں مگر یہ محض غلط ہے۔اگر آپ کافرہ ہوتیں تو حضور صلی الله علیہ وسلم کو زیارت قبور کی بھی اجازت نہ ملتی،رب فرماتا ہے:"وَّلَاتَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ اِنَّہُمْ کَفَرُوۡابِاللّٰہِزیارت قبر کی اجازت سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ مؤمنہ ہیں۔حضور انورصلی الله علیہ وسلم کو دعائے مغفرت سے اس لیے منع کیا گیا کہ حضرت آمنہ بالکل بے گناہ ہیں،انہوں نے احکام شرعیہ کا زمانہ پایا ہی نہیں پھر گناہ ان سے کیونکر سرزد ہوتے اور دعائے مغفرت گنہگار کو کی جاتی ہے۔دیکھو بچہ کے جنازہ میں اس کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرتے،آج حضور صلی الله علیہ وسلم کے لیے دعائے مغفرت منع،حضرت آمنہ خاتون کا ایمان قرآن کریم کی صریح آیت سے ثابت ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی"وَمِنۡ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّۃً مُسْلِمَۃً لَّک"پھر فرمایا"رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًامِّنْہُمْ"خدایا میری اولاد میں ہمیشہ ایک مؤمن جماعت رہے اور اے مولیٰ اسی مؤمن جماعت میں نبی آخر الزمان کو بھیج،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا یقینًا قبول ہوئی،حضورصلی الله علیہ وسلم کے تمام آباء و اجداد مؤمن ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "تفسیرنعیمی" جلد اول میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1763