Main Icon

باب : قبروں کی زیارت کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1768

جنازوں کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ يُرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهٗ وَكُتِبَ بَرًّا” . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِيْ شُعَبِ الْإِيْمَانِ مُرْسَلًا

وعن محمد بن النعمان يرفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: “من زار قبر أبويه أو أحدهما في كل جمعة غفر له وكتب برا” . رواه البيهقي في شعب الإيمان مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت محمد ابن نعمان سے وہ اس حدیث کو نبی صلی الله علیہ وسلم کی طرف مرفوع کرتے ہیں ۱∞؎فرمایا جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کی قبر کی ہر جمعہ میں ۲؎زیارت کیا کرے تو اس کی بخشش کی جائے گی اور وہ بھلائی کرنے میں لکھا جائے گا۳؎(بیہقی ،شعب الایمان )

شرح حدیث

۱∞؎یعنی محمد ابن نعمان اگرچہ تابعی ہیں جنہوں نے حضورصلی الله علیہ وسلم کی زیارت نہ کی مگر انہوں نے صحابی کے ذریعہ یہ حدیث حضورصلی الله علیہ وسلم تک مرفوع کی لہذا حدیث مرسل ہے۔۲؎یہاں جمعہ سے مراد یا تو جمعہ کا دن ہے یا پورا ہفتہ۔بہتر ہے کہ ہر جمعہ کے دن والدین کی قبور کی زیارت کیا کرے،اگر وہاں حاضری میسر نہ ہو جیسے کہ یہ فقیر اب پاکستان میں ہے اور میرے والدین کی قبریں ہندوستان میں تو ہر جمعہ کو ان کے لیئے ایصال ثواب کیا کرے۔۳؎یعنی ماں باپ کی قبروں کی زیارت کرنے والا گویا اب بھی انکی خدمت کررہا ہے۔جو ثواب ان کی زندگی میں ان کی خدمت کرنے کا ہے وہ ہی ثواب ان کی وفات کے بعد ان کی قبور کی زیارت کا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ والدین کی وفات کے بعد تین کام کرو:ایک یہ کہ ہر جمعہ کو ان کی قبروں کی زیارت کرو،ان کے لیئے دعاءختم وغیرہ پڑھو۔دوسرے یہ کہ ان کے قرض ادا کرو،ان کے وعدے پورے کرو۔تیسرے یہ کہ والد کے دوستوں اور والدہ کی سہیلیوں کو اپنا باپ و ماں سمجھو اور ان کی خدمت کرو،ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1768