Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5868

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ عَلَى رُؤُوْسِنَا وَنَحْنُ فِي الْغَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلٰى قَدَمِهٖ أَبْصَرَنَا فَقَالَ:«يَا أَبَا بَكْرٍ مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللّٰهُ ثَالِثُهُمَا»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن أنس بن مالك أن أبا بكر الصديق قال: نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن في الغار فقلت يا رسول الله لو أن أحدهم نظر إلى قدمه أبصرنا فقال:«يا أبا بكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے کہ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۱؎کہ میں نے اپنے سروں کے اوپر مشرکین کے قدم دیکھے جب کہ ہم غار میں تھے تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر ان میں سے ایک اپنے قدموں کی طرف دیکھے تو ہم کو دیکھ لے۲؎فرمایا اے ابوبکر تمہیں ان دو کے متعلق کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے۔صادق وہ جو زبان کا سچا ہو،صدیق وہ ہے جو نیت،ارادہ،زبان،ہاتھ پاؤں غرض کہ سارے ظاہر باطن اعضاء کا سچا ہو۔صادق وہ کہ جیسا واقعہ ہو ویسا کہے اور صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے واقعہ ایسا ہی ہوجاوے اسی لیے شاہی ساقی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کہا جب کہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا،عرض کیا"یُوۡسُفُ اَیُّھَاالصِّدِّیۡقُ"۔حضرت صدیق اکبر نے مالک بن سنان کے متعلق جو کہا تھا وہ ہی ہوا کہ وہ شہید ہونے کے بعد زندہ ہو کر آئے،ان شاء اﷲیہ واقعہباب الکراماتمیں عرض ہوگا۔
۲
؎جب ہجرت کی شب حضور انور کو لے کر صدیق اکبر غار ثور میں بیٹھے تب مشرکین عرب اس غار کے دروازے پر پہنچ گئے تب آپ نے نہایت خوف کی حالت میں یہ کہا،جناب صدیق اکبر کو اس وقت اپنی جان کا خوف نہیں تھا اپنی جان تو آپ پہلے ہی فدا کرچکے تھے کہ اکیلے اندھیرے غار میں گھس گئے سانپ سے کٹوالیا،خوف حضور انور کی تکلیف کا تھا،یہ خوف بہترین عبادت تھا جس پر ساری عبادات قربان ہوں۔
۳
؎حضرت صدیق اکبر اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ گفتگو رب تعالٰی کو ایسی پسند آئی کہ اسے قرآن کریم میں بایں الفاظ نقل فرمایا"اِذْهُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا"۔اس واقعہ میں حضرت صدیق اکبر کے چند فضائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ انہیں حضور کاثانی اثنین،پھر انہیں تیسرا کون کرے حضور کے بعد درجہ اس ثانی کا ہے۔ دوسرے یہ کہ انہیں حضور کا صحابی فرمایا گیالِصٰحِبِہٖان کی صحابیت قطعی یقینی ہے۔تیسرے یہ کہ انہیں یار غار یعنی حضور کا گہرا دوست غار کا ساتھی کہا گیا آج بھی کہتے ہیں فلاں میرا یار غار ہے۔چوتھے یہ کہ حضور انور نے فرمایا:"اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا"۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی جیسے اپنے حبیب کے ساتھ ہے ویسے ہی جناب صدیق کے ساتھ بھی ہے یعنی جو ان دونوں کے دامن سے الگ ہو اللہ اس کے ساتھ نہیں۔خیال رہے کہاﷲ ثالثھماکہنا عین ایمان ہے اوران اﷲ ثالث ثلثۃکہنا عین کفر ہے یعنی خدا کو نسبت کرو ناقص عدد کی طرف نہ کہ برابر عددکی طرف جیسےوھو رابعھماورو ھو ثالثھمرب کو قرآن میں فرمایا گیا ہے۔(مرقات)یہ واقعہ اس لیے معجزہ بنا کہ حضور کی خبر کے مطابق کفار ان دونوں حضرات کو نقصان نہ پہنچاسکے،مکڑی کے جالے اورکبوتری کے انڈے کے ذریعہ رب نے ان دونوں جانوں کو کفار سے بچالیا۔(مرقات)پھر حضرت صدیق اکبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سب کچھ کہتے رہے مگر ان کی آواز کفار نے نہیں سنی اور کفار کی آوازیں غار میں جناب صدیق سنتے رہے یہ بھی معجزہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5868