باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5893
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى إِنَّهٗ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهٗ فَعَلَ الشَّيْءَ وَمَا فَعَلَهٗ حَتّٰى إِذَا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدِي دَعَا اللّٰهَ وَدَعَاهُ ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ اللّٰهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهٗ جَاءَنِي رجلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلِي ثُمَّ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهٖ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهٗ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ الْيَهُودِيُّ قَالَ فِي مَاذَا قَالَ فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَكَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهٖ إِلَى البِئْرِ فَقَالَ هَذِهِ الْبِئْرُ الَّتِي أُرِيتُهَا وَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُؤُوسُ الشَّيَاطِينَ" فَاسْتَخْرَجَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عائشة قالت سحر رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى إنه ليخيل إليه أنه فعل الشيء وما فعله حتى إذا كان ذات يوم عندي دعا الله ودعاه ثم قال أشعرت يا عائشة أن الله قد أفتاني فيما استفتيته جاءني رجلان فجلس أحدهما عند رأسي والآخر عند رجلي ثم قال أحدهما لصاحبه ما وجع الرجل قال مطبوب قال ومن طبه قال لبيد بن الأعصم اليهودي قال في ماذا قال في مشط ومشاطة وجف طلعة ذكر قال فأين هو قال في بئر ذروان فذهب النبي صلى الله عليه وسلم في أناس من أصحابه إلى البئر فقال هذه البئر التي أريتها وكأن ماءها نقاعة الحناء، وكأن نخلها رؤوس الشياطين" فاستخرجه. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم پر جادو کیا گیا ۱؎حتی کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ آپ نے فلاں کام کرلیا ہے حالانکہ کیا نہ ہوتا تھا۲؎حتی کہ جب ایک دن حضور سرکار میرے پاس تھے تو اﷲسے دعا کی پھر دعا کی ۳؎پھر فرمایا کہ اے عائشہ کیا تمہیں خبر ہے کہ اﷲنے مجھے وہ بات بتادی جو میں نے اس سے پوچھی تھی ۴؎میرے پاس دو شخص آئے ان میں سے ایک تو میرے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا میرے پاؤ ں کے پاس ۵؎پھر ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ان صاحب کو کیا بیماری ہے اس نے کہا ان پر جادو کیا گیا ہے ۶؎وہ بولا کس نے جادو کیا ہے کہا لبیدابن اعصم یہودی ۷؎نے بولا وہ جادو کس چیز میں کیا گیا کہا کنگھی اور بالوں میں اور نر کھجور کے غلاف شگوفہ میں ۸؎میں بولا تو وہ سامان کہاں ہے کہا ذروان کنویں میں ۹؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ اس کنویں تک گئے فرمایا یہ ہی وہ کنواں ہے جو مجھے دکھایا گیا ہے ۱۰؎اس کا پانی مہندی کے نچوڑ کی طرح ہے اور گویا اس کے درخت سانپوں کے سر ہیں۱۱؎پھر حضور نے اسے نکلوایا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎لبید ابن عاصم یہودی اور اس کی لڑکیوں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے بالوں اور استعمالی کنگھی کے دندانوں میں حضور پر جادو کیا اور ان بالوں میں گیارہ گرہیں لگائیں تب حضور پر وہ اثر ہوا جو آگے مذکور ہے۔
۲؎یعنی ان لوگوں نے جادو تو بہت ہی سخت کیا تھا مگر اس کا اثر حضور انور کی عقل،حافظہ،دل جگر وغیرہ پر مطلقًا نہ ہوا صرف خیال پر اثر ہوا وہ بھی دنیاوی کاموں میں کہ کھانا نہیں کھایا ہے اور خیال رہا کہ کھالیا دین پر کوئی اثر نہیں ہوا،نبی کے خیال پر جادو کا اثر ہو جانا بالکل درست ہے قرآن کریم نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا"فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیۡهِ مِنۡ سِحْرِهِمْ اَنَّھَا تَسْعٰی"دیکھو فرعونی جادو گروں کے جادو کا اثر موسیٰ علیہ السلام کے خیال پر یہ ہوا کہ ان کی لاٹھیاں رسیاں حرکت نہیں کرتی تھیں مگر آپ کو حرکت کرتی محسوس ہوتی تھیں جیسے زہر،تلوار بچھو کا ڈنگ جسم نبی پر اثر کرسکتے ہیں ایسے ہی جادو بھی ان پر اثر کرسکتا ہے۔یہ اثر شان نبوت کے خلاف نہیں دیکھو حضرت زکریا اور حضرت یحیی علیہم السلام کو تلوار سے قتل کیا گیا ہمارے حضور کو خیبر میں زہر دیا گیا تو آپ پر اثر ہوا ہاں جب جادو کا معجزہ سے مقابلہ ہوگا تو جادو ناکام ہوگا۔یوں ہی ان حضرات کا دل زبان اس کے اثر سے محفوظ رہے گا کہ اس کا تعلق تبلیغ سے ہے اس جادو کا یہ واقعہ ۶ ہجری بعدصلح حدیبیہ کے ہوا جادو کا زور چالیس دن رہا ازالہ چھ ماہ کے بعد ہوا۔(اشعہ)
۳؎یعنی حضور انور نے اس جادو کے دفع کے لیے بہت دعا فرمائی۔یہ تکرار تاکید کے لیے ہے یعنی خوب خوب دعا کی۔
۴؎یعنی میں نے رب سے دعا کی تھی کہ مجھے بیماری کیا ہے کس وجہ سے ہے اگر جادو ہے تو کس چیز میں کیا گیا ہےاور سامان جادو کہاں ہے،رب نے مجھے بتادیا اور دفعیہ کا طریقہ بھی۔
۵؎یعنی دو فرشتے دو مردوں کی شکل میں میرے پاس آئے جب میں سورہا تھا ایک میرے سرہانے دوسرا پائنتی بیٹھ گیا اور انہوں نے آپس میں سوال جواب کیے میں سن رہا تھا وہ سب کچھ بتا گئے۔
۶؎خیال رہے کہ کفار جو آپ کے متعلق کہتے تھے مسحور اس کے معنی تھے مجنون یعنی جو جادو کے زور سے بے عقل کردیا گیا یہاں مطلوب کے معنی ہیں کہ جن پر جادو کیاگیا لہذا ان کے مسحو رکہنے میں اور ان فرشتوں کے مطلوب کہنے میں بڑافرق ہے،واقعی حضور انور پر جادو کیا گیا تھا مگر اس سے حضور کی عقل و ہوش و حواس پر مطلقًا اثر نہیں ہوا صرف خیال پر اثر ہوا۔
۷؎جادو کیا تھا لبید کی لڑکیوں نے مگر ان کی مدد لبید نے کی تھی اور کہا بھی اس نے تھا اس لیے لبید کا نام لیا گیا۔خیال رہے کہ لفظ طب کے بہت معنی ہیں ان میں سے ایک معنی جادو ہے یہاں اسی معنی میں ہے۔
۸؎مشطکنگھی کے دندے کو کہتے ہیں اورمشاطہسر یا داڑھی کے وہ بال جو کنگھی کرنے میں دندوں میں الجھ کر باہر آجاتے ہیں،طلعہکھجور کا نر درخت جب وہ غلاف میں ہو جس میں کھجور کے پھول محفوظ ہوتے ہیں اکثر جادو کنگھی سے نکلے ہوئے بالوں پر ہوتا ہے اس لیے بعض لوگ ان بالوں کی حفاظت کرتے ہیں اولًا ان پر کچھ تھوتکار دیتے ہیں پھر وہ بال کسی محفوظ جگہ میں ڈالتے ہیں۔
۹؎اس کنویں کے تین نام ہیں ذرواں،ارواں اور ذی ارواں،مختلف احادیث میں یہ مختلف نام آئے ہیں یہ کنواں مدینہ منورہ سے باہر ابوزریق کے باغ میں تھا اب موجود نہیں تب ہی بند کردیا گیا تھا دیکھو مرقات وغیرہ۔
۱۰؎معلوم ہوتا ہے کہ خواب میں وہ کنواں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بتایا بھی گیا تھا اور دکھایا بھی گیا تھا اس لیےاریتھافرمایا۔
۱۱؎یعنی اس کنویں کا پانی نکالا نہیں جاتا تھا اس لیے پانی کا رنگ بدل گیا تھا اور اس کنویں پر چو طرفہ تھور کے درخت تھے جس کی شاخیں سانپ کے پھن کی طرح ہوتی ہیں ان پر باریک اور لمبے کانٹے ہوتے ہیں۔شیاطین سے مراد پھن والے سانپ ہیں۔
۱۲؎اس طرح نکلوایا کہ آپ سرکار کنویں کے کنارہ پر کھڑے رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ و عمار کو کنویں میں اتارا انہوں نے جادو کا سامان نکالا موم کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پتلا تھا جس میں گیارہ سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں بالوں میں گیارہ گرہیں تھیں اس جگہ اس وقت جبریل امین سورۂ فلق اور سورۂ ناس لائے ان دونوں میں گیارہ آیتیں ہیں حضور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ایک آیت پڑھتے تو پتلا میں سے ایک سوئی نکل جاتی تھی اور بالوں کی ایک گرہ کھل جاتی تھی اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا بوجھ کچھ ہلکا ہوجاتا تھا اس طرح گیارہ آیتیں پڑھنے پر گیارہ سوئیاں نکل گئیں اور گیارہ گرہیں کھل گئیں حضور انور بالکل صحت یاب ہوگئے۔(اشعۃ اللمعات)حضور انور نے اس یہودی سے بدلہ نہیں لیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5893