باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5942
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى القَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ يَقُولُ: «أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهٖ» فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهٗ دَاعِيُ امْرَأَتِهٖ فَأَجَابَ وَنَحْنُ مَعَهٗ فَجِيء بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهٗ ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا فَنَظَرْنَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فِيهِ ثُمَّ قَالَ أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ تَقُولُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى النَّقِيعِ وَهُوَ مَوْضِعٌ يُبَاعُ فِيهِ الْغَنَمُ لِيَشْتَرِى لِي شَاةً فَلَمْ تُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلٰى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرٰى شَاةً أَنْ يُرْسِلَ إِلَيّ بهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ فَأَرْسَلْتُ إِلٰى امْرَأَتِهٖ فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمِي هٰذَاالطَّعَامَ الْأُسْرٰى» رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ والْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِلِ النُّبُوَّةِ
وعن عاصم بن كليب عن أبيه عن رجل من الأنصار قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على القبر يوصي الحافر يقول: «أوسع من قبل رجليه أوسع من قبل رأسه» فلما رجع استقبله داعي امرأته فأجاب ونحن معه فجيء بالطعام فوضع يده ثم وضع القوم فأكلوا فنظرنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوك لقمة في فيه ثم قال أجد لحم شاة أخذت بغير إذن أهلها فأرسلت المرأة تقول يا رسول الله إني أرسلت إلى النقيع وهو موضع يباع فيه الغنم ليشترى لي شاة فلم توجد فأرسلت إلى جار لي قد اشترى شاة أن يرسل إلي بها بثمنها فلم يوجد فأرسلت إلى امرأته فأرسلت إلي بها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أطعمي هذاالطعام الأسرى» رواه أبو داود والبيهقي في دلائل النبوة
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضر ت عاصم ابن کلیب سے وہ اپنے والد سے وہ ایک انصاری سے راوی ۱؎ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ قبر پر تشریف فرما تھے کھودنے والے کو سمجھاتے تھے فرماتے تھے کہ اس کے پاؤں کی طرف فراخ کرو اس کے سر کی طرف فراخ کرو پھر جب واپس ہوئے تو آپ کے سامنے اس کی بیوی کی طرف سے بلانے والا آیا ۲؎آپ نے منظور فرمایا ہم آپ کے ساتھ تھے کھانا لایا گیا۳؎حضور نے اپنا ہاتھ رکھا پھر قوم نے کہ سب کھانے لگے۴؎تو ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے منہ میں لقمہ پھرا رہے ہیں ۵؎پھر فرمایا کہ میں ایسی بکری کا گوشت محسوس کرتا ہوں جو اس کے مالک کی بغیر اجازت لی گئی ہے ۶؎اس عورت نے کہلاکر بھیجا کہ یارسول الله میں نے نقیع کی طرف بھیجا تھا یہ وہ جگہ تھی یہاں بکریاں فروخت کی جاتی تھیں تاکہ میرے لیے بکری خریدے ۷؎بکری ملی نہیں میں نے اپنے پڑوسی کے پاس آدمی بھیجا جس نے بکری خریدی تھی یہ کہ مجھے وہ بکری قیمتًا بھیج دے وہ ملا نہیں ۸؎تو میں نے اس کی بیوی کے پاس بھیجا اس نے وہ میرے پاس بھیج دی تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھانا قیدیوں کو کھلا دو ۹؎(ابوداؤد،بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح حدیث
۱∞؎خیال رہے کہ تمام صحابہ عادل ہیں ان میں کوئی فاسق نہیں اس لیے صحابی کا نام معلوم نہ ہونا حدیث کو مجہول نہیں کرتا،ہاں صحابہ کے سوا کسی اور راوی کا نام مذکور نہ ہو تو حدیث مجہول ہوجاتی ہے کہ خبر نہیں وہ راوی کون ہے کیسا ہے،فاسق ہے یا عادل۔
۲؎یعنی عرض کیا یارسول الله میت کی بیوی حضور کو بلا رہی ہے کھانے کی دعوت نہیں تھی جیساکہ الفاظ حدیث سے معلوم ہورہا ہے یہ بات خیال میں رکھی جاوے۔
۳؎یہاں کھانا دعوت کے طور پر نہیں پکایا گیا تھا نہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو دعوتِ طعام کے لیے بلایا گیا تھا اس کے گھر حضور تشریف لے گئے تھے کھانے کا وقت تھا اس نے کھانا بھی پیش کردیا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ میت والوں سے دعوت لینا ممنوع ہے۔اس مسئلہ کی بہت صورتیں ہیں:(۱)بعض وارث نابالغ ہوں(۲)بعض وارث غائب ہوں(۳)قوم دعوت دینے پر مجبور کرے کہ میت کی روٹی دے(۴)اہلِ میت رواج کے ماتحت شرم و حیاء سے روٹی دیں،پہلی دو صورتوں میں دعوت دینا دعوت کھانا دونوں حرام ہیں کہ اس میں یتیم کا مال کھانا ہے اور غائب کا مال اس کی اجازت کے بغیر کھانا ہے،آخری دو صورتوں میں کھانا مکروہ ہے اگر یہ چار صورتیں نہ ہوں مثلًا مہمانوں کے لیے کسی خاص وارث نے یا سارے بالغ وارثوں نے کھانا پکادیا یا اتفاقًا کسی کو کھلا دیا تو بلا کراہت جائز ہے۔یہاں جو واقعہ بیان ہورہا ہے اس میں یہ چاروں صورتیں نہ تھیں لہذا فقہاء کا یہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔
مسئلہ: میت کا کفن دفن اس کے سارے مال سے کیا جاوے مگر اس کی نیاز فاتحہ میں یہ خیال رکھا جاوے کہ اگر بعض وارث یتیم نابالغ یا غائب ہوں تو اولًا متروکہ مال تقسیم کیا جاوے پھر بالغین حاضرین اپنے حصہ میں سے نیاز فاتحہ کریں اور یہ کھانا صرف فقراء مسکین کو کھلایا جاوے۔غرضکہ میت والوں کے ہاں کھانے کی بہت صورتیں ہیں:بعض حرام ہیں،بعض مکروہ،بعض مباح ہیں یہاں مکمل تفصیل کی گنجائش نہیں۔
۴؎قوم سے مراد صاحبِ خانہ کے مہمان ہیں جن کے لیے کھانا تیار کیا گیا تھا اور وہ صحابہ کرام جو حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ تھے جو اتفاقًا وہاں پہنچ گئے تھے اور کھانے میں شریک ہوگئے تھے۔
۵؎یعنی لقمہ منہ میں لے لیا چبایا منہ میں گھمایا مگر نگلا نہیں ہم نے یہ محسوس کرلیا تو یا تو کسی نے حضورصلی الله علیہ وسلم سے پوچھا یا حضور انور نے خود ہی وہ فرمایا جو آگے آرہا ہے۔
۶؎یعنی یہ گوشت نہ تو حرام جانور کا ہے نہ مردار کا مگر ایسا ہے جس میں احتیاط نہیں برتی گئی۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور انور کو پس پردہ چیز کی خبر دی گئی وہاں وحی الٰہی نہیں آئی تھی بلکہ زبان شریف نے گوشت کی لذت کے ساتھ اس کی کیفیت بھی محسوس کرلی۔دوسرے یہ کہ الله تعالٰی نے حضورصلی الله علیہ وسلم کے حلق اور شکم کو ہمیشہ حرام بلکہ مکروہ بلکہ مشتبہ بلکہ غیر احتیاطی چیزوں سے محفوظ رکھا،بخاری شریف میں سے کہ بچپن شریف میں حضور نے کبھی بتوں کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت نہیں کھایا۔خیال رہے کہ کفار کی مشترک کمائیاں مؤمن کے لیے حلال ہیں لہذا حضور انور کا ابو طالب کے ہاں اور موسیٰ علیہ السلام کا فرعون کے ہاں پرورش پانا یوں ہی حضور انور کا کفار کے ہدیے قبول فرمانا بالکل درست تھا،اب بھی ایسے مشترکہ مال والے کی دعوت کھالیناجائز ہے۔
۷؎نقیعنون سے مدینہ پاک کے قریب وادی عقیق کی طرف ایک بازار تھا جہاں اور چیزوں کے ساتھ جانور بھی فروخت ہوتے تھے۔جن لوگوں نےبقیعب سے پڑھا غلط ہے بقیع تو مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان ہے وہاں بازارکہاں یہ تفسیر کسی راوی کی ہے۔
۸؎یعنی میرا پڑوسی اپنے لیے ایک بکری خرید کر لایا تھا میں نے کہلا کر بھیجا تھا کہ وہ بکری میرے ہاتھ فروخت کردے کہ مجھے اس کی فوری ضرورت ہے۔
۹؎اس سے معلوم ہوا کہ بیوی اپنے خاوند کا مال اس کی بغیر اجازت نہ تو فروخت کرسکتی ہے نہ ہبہ،اگر کرے گی تو درست نہ ہوگا، ہاں وہ معمولی حقیر چیزیں جس کے ہبہ کرنے کی اجازت عادۃً خاوند کی طرف سے ہوتی ہے وہ ہبہ خیرات کرسکتی ہے جیسے روٹی کا ٹکڑا،پھٹا پرانا کپڑا۔واقعہ یہ تھا کہ مالک بکری والا اب تک گھر نہ آیا تھا کہ اس سے اجازت لی جاتی اور گوشت بگڑ جانے کا اندیشہ تھا دونوں کفار تھے جن پر شرعی احکام جاری نہ تھے،حکم دیا کہ یہ مشتبہ کھانا ان قیدیوں کو کھلا دو اور بکری کی بازاری قیمت مالک بکری کو ادا کردی جاوے کہ یہ مال غصب ہے،غصب کے یہ ہی احکام ہیں۔معلوم ہوا کہ کھانا نہ تو ضائع کیا جاوے اور نہ بگڑنے دیا جاوے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5942