باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5877
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَاؤُوا الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذِهٖ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ: «أَنَا نَازِلٌ» ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهٗ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ فَانْكَفَأْتُ إِلٰى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِیْرٍ وَلَنَا بَهْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتّٰى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهٗ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ» فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتّٰى أَجِيءَ» . وَجَاءَ فَأَخْرَجْتُ لَهٗ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلٰى بُرْمَتِنا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ: "ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكَ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا» وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمَ بِاللّٰهِ لَأَكَلُوا حَتّٰى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن جابر قال إنا يوم الخندق نحفر فعرضت كدية شديدة فجاؤوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: هذه كدية عرضت في الخندق فقال: «أنا نازل» ثم قام وبطنه معصوب بحجر ولبثنا ثلاثة أيام لا نذوق ذواقا فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم المعول فضرب فعاد كثيبا أهيل فانكفأت إلى امرأتي فقلت: هل عندك شيء؟ فإني رأيت بالنبي صلى الله عليه وسلم خمصا شديدا فأخرجت جرابا فيه صاع من شعیر ولنا بهمة داجن فذبحتها وطحنت الشعير حتى جعلنا اللحم في البرمة ثم جئت النبي صلى الله عليه وسلم فساررته فقلت: يا رسول الله؟ ذبحنا بهيمة لنا وطحنت صاعا من شعير فتعال أنت ونفر معك فصاح النبي صلى الله عليه وسلم: « يا أهل الخندق إن جابرا صنع سورا فحي هلا بكم» فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تنزلن برمتكم ولا تخبزن عجينكم حتى أجيء» . وجاء فأخرجت له عجينا فبصق فيه وبارك ثم عمد إلى برمتنا فبصق وبارك، ثم قال: "ادعي خابزة فلتخبز معك واقدحي من برمتكم ولا تنزلوها» وهم ألف فأقسم بالله لأكلوا حتى تركوه وانحرفوا وإن برمتنا لتغط كما هي وإن عجيننا ليخبز كما هو. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا ۱؎تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎عرض کیا کہ یہ پتھر خندق میں پیش آگیا ہے تو فرمایا ہم اتریں گے حضور اُٹھے حالانکہ آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا،ہم تین دن تک اس طرح رہے تھے کہ کوئی چکھنے کی چیز نہیں چکھی تھیں ۳؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کدال لی پتھر پر ماری تو پتھر ریگ رواں بن گیا۴؎پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ۵؎میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت بھوک دیکھی ہے ۶؎تو انہوں نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کی پٹھیا تھی۷؎میں نے اسے ذبح کیا میری بیوی نے جو پیسے ۸؎حتی کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا میں نے آپ سے چپکے سے سرگوشی کی عرض کیا یارسول اﷲہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پِیسے ہیں ۹؎حضور سرکار آپ اور آپ کے ساتھ چھوٹی جماعت تشریف لائیں ۱۰؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان فرمادیا کہ اے خندق والو جابر نے کھانا تیار کیا ہے چلو ۱۱؎پھر رسول اﷲصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی نہ اتارنا اور اپنے آٹے کی روٹی پکانا شروع نہ کرناحتی کہ میں آجاؤں۱۲؎پھر حضور تشریف لائے تو حضور کے سامنے آٹا پیش کیا حضور نے لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی پھر ہماری ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اس میں لعاب ڈالا۱۳؎پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور اپنی ہانڈی سے شوربا نکالو۱۴؎اور اسے نہ اتارو مجاہدین ایک ہزار تھے،میں اﷲکی قسم کھاتا ہوں کہ ان سب نے کھایا حتی کہ کھانا چھوڑ دیا ۱۵؎اور لوٹ گئے حالانکہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پکایا جارہا تھا ۱۶؎جیساکہ تھا۔ (مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یہ پتھر ایسا تھا جس میں کدال کام نہیں کرتی تھی اور کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔
۲؎جو مشکل کام کسی سے نہیں ہوسکتا تھا وہ کام حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اسی لیے حضرات صحابہ کرام مشکلات میں حضور انور کی طرف رجوع کرتے تھے۔
۳؎یعنی تمام صحابہ کرام نے اور خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دن سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اور خندق کی کھدائی کا کام تھا،خالی پیٹ کدال اٹھانا مشکل تھا اس لیے حضور انور نے پیٹ شریف پر پتھر باندھ رکھا تھا تاکہ پیٹ کے بوجھ سے کدال چلانا آسان ہوجاوے۔خیال رہے کہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عادۃً کچھ نہ کھائیں اس لیے کہ کھانا موجود نہ ہو تب حضور اقدس پر بھوک کے آثار نمودار ہوتے تھے لیکن اگر عبادۃً نہ کھاتے روزے کی نیت سے تو خواہ کتنا ہی عرصہ نہ کھاتے مطلقًا ضعف نہ ہوتا تھا،اس کے متعلق ارشاد ہے"یُطْعِمُنِیۡ وَ یَسْقِیۡنِ" مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔حضور انور نور بھی ہیں بشر بھی،روزے میں نورانیت کی جلوہ گری ہوتی تھی اور عادۃً نہ کھانے میں بشریت کا ظہور،دیکھو عیسیٰ علیہ السلام پہلے بھی کھاتے پیتے تھے اور قریب قیامت آسمان سے آکر بھی کھائیں گے پئیں گے کیونکہ آپ بشر ہیں مگر آسمان پر قریبًا دو ہزار سال سے گئے ہوئے ہیں بغیر کھائے پئے موجود ہیں کیونکہ اﷲتعالٰی کا نور ہیں،اسی حالت میں حضور انور نے کدال سے وہ سخت پتھر توڑا۔حدیث کا یہ مطلب میرے مرشد مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی نے خواب میں مجھ کو بتایا۔
۴؎یہ پتھر تین چوٹوں میں ریگ رواں بن گیا تھا۔
۵؎یعنی کچھ کھانے پینے کی چیز ہے۔اس سوال سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ گھر کا خرچ عورت کے ہاتھ میں رہنا چاہیے،کمانا مرد کے لیے مناسب ہے خرچ کرنا عورت کے لیے بہتر ہے۔دوسرے یہ کہ اگرچہ جابر کے گھر میں کچھ تھا ضرور مگر تین دن سے انہوں نے اور ان کے گھر والوں نے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ نہ کھایا تھا تو یہ کیسے کھالیتے۔
۶؎اس طرح کہ ان کے پیٹ شریف پر پتھر بندھا دیکھا ہے اور چہرہ پاک پر زردی نمودار دیکھی ہے جو سخت بھوک کی علامت ہے۔خمصخ اور میم کے فتحہ سے بمعنی جوع شدید(سخت بھوک)۔
۷؎بعض روایات میںیہمیہی کے ساتھ ہے بہت چھوٹی سی بکری،داجنبمعنی گھر والوں سے ہلی ملی یعنی گھریلو پٹھیا۔
۸؎یعنی جلدی کھانا تیار کرنے کے لیے ہم دونوں نے تقسیم کار کرلی بیک وقت میں بکری کے ذبح سے فارغ ہوا اور میری بیوی جَو پیس کر فارغ ہوئی۔
۹؎یعنی ہمارے گھرمیں کھانا تھوڑا سا ہے اس لیے میں حضور کے کان میں یہ دعوت عرض کررہا ہوں۔معلوم ہوا کہ اگر میزبان مہمان پر اپنی حیثیت ظاہر کردے تاکہ بقدر کھانے کے آدمی آئیں تو جائز ہے،آج شادی بیاہ میں کہہ دیتے ہیں کہ پچاس آدمی یا سو آدمی لانا اس مقرر کرنے کی اصل یہ حدیث ہے۔
۱۰؎نفردس سے کم جماعت پر بولا جاتا ہے۔یہ بھی جائز ہے کہ میزبان دعوت والوں کو مقرر کرے اور یہ بھی جائز ہے کہ خود مقرر نہ کرے دوسرے کو مقرر کرنے کا حق دے دے،یہاں دوسری صورت ہے۔
۱۱؎سُورمہمانی کے کھانے کو کہتے ہیں یعنی دعوت کا کھانا۔خندق کھودنے والے حضرات چودہ سو سے زیادہ تھے،ان سب کی دعوت حضور نے کردی،سورفارسی لفظ ہے۔خیال رہے کہ آج لنگر حضور کا تھا گھر حضرت جابر کا لہذا یہ اعلان اور دعوت بالکل درست ہے۔نیز جو چیز استعمال سے گھٹے نہیں وہ مالک کی بغیر اجازت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے کسی کے چراغ کی روشنی میں مطالعہ کرلینا،کسی کی دیوار سے سایہ لے لینا آج یہ کھانا ان کھانے والوں کے استعمال سے گھٹے گا نہیں لہذا حضرت جابر کی بغیر اجازت حضور نے سب کو دعوت دے دی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ساری اُمت حضور کی لونڈی و غلام ہیں اور مولٰی اپنے غلام کے گھر اس سے بغیر پوچھے مہمان لے جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ چار آدمیوں کی دعوت ہو تو پانچواں نہ جائے کہ وہ قانون اور جگہ کے لیے ہے اور یہ اختیار خدا داد یہاں جابر کے گھر کے لیے ہے۔
۱۲؎حضرت جابر اس اعلان سے حیران رہ گئے ان کی حیرانی ملاحظہ فرمائی اور تسکین دینے کے لیے یہ فرمایا گھبراؤ نہیں اﷲفضل کرے گا جو لائے گا وہ کھلائے گا،تم اتنا کرنا کہ میرے آنے سے پہلے ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور آٹا پکانا شروع نہ کرنا پھر قدرت خدا کا تماشا دیکھنا۔خیال رہے کہ اگر حضور اس لشکر کے بغیر کھا آتے تو ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ان شاءاﷲحضور ہم گنہگاروں کے بغیر جنت میں بھی اکیلے نہ جائیں گے۔
۱۳؎ابھی کچھ پہلے آپ حضور انور کے لعاب کا ایک معجزہ پڑھ چکے کہ عبداﷲابن عتیک کی ٹوٹی پنڈلی اس لعاب سے جڑ گئی تندرست ہوگئی یہ دوسرا اور تیسرا معجزہ دیکھو اور ایمان تازہ کرو۔حضور انور نے لعاب دو چیزوں میں ڈالا گوندھے ہوئے آٹے میں اور پکتی ہوئی گوشت کی ہانڈی میں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کا لعاب یا ان کے وضوء وغیرہ کا غسالہ برکت کے لیے کھانا پینا بالکل جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔مؤمن کی طبیعت محبوب کی ہر چیز سے محبت کرتی ہے کسی چیز سے نفرت نہیں کرتی ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کے ساتھ دم یا لعاب ڈالنا بھی سنت ہے اس کا ماخذ بھی یہ ہی حدیث ہے۔
۱۴؎یہ خطاب حضرت جابر کی بیوی صاحبہ سے ہے کہ ایک عورت کو اور بلالو جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے چار سیر آٹا پکانے کے لیے دو عورتوں کو مقرر کرنا اگلی برکت کی پیش گوئی ہے۔
۱۵؎یہ ایک ہزار آدمی تین دن سے بھوکے تھے انہوں نے کھانا بھی خوب ہی کھایا ہوگا۔جن روایات میں چودہ سو آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ ایک ہزار تو خندق کھودنے والے تھے اور چار سو وہ حضرات تھے جو بعد میں بچے کھچے رہے جو مدینہ منورہ کے گھروں،بازاروں وغیرہ میں تھے،مدینہ منورہ کے بچے عورتیں بھی اس دعوت میں شامل کرلی گئی تھیں۔غرضکہ کھانے والوں کے میلے لگ گئے تھے۔خوش نصیب تھے وہ لوگ جو اس برکت والے کھانے سے مشرف ہوئے۔مدینہ منورہ کے بازار میں ایک سبزی فروش اپنی سبزی پرپانی چھڑک رہا تھا اور کہہ رہا تھایا برکۃ النبی تعالی وانزلی ثم لا ترتحلیاے نبی کی برکت آجا یہاں سماجا پھر یہاں سے نہ جا۔(اشعۃ اللمعات)اللھم صل وسلم وبارك علیہ۔اس موقعہ پر حضور انور نے پہلے سب کو کھلایا بعد میں گھر والوں کے ساتھ مل کر خود کھایا اور حضور واپس لوٹے تو حضرت جابر کا گھر روٹیوں بوٹیوں سے بھرا ہوا تھا صلی اﷲعلیہ وسلم۔
۱۶؎اس واقعہ میں حضور انور کے لعاب شریف کے بہت سے معجزات ہیں: بوٹیوں میں کثرت و برکت،شوربے کے پانی میں برکت،شوربے کے نمک مرچ مصالحہ گھی میں برکت و کثرت،آٹے میں برکت و کثرت،جس لکڑی سے یہ چیزیں پکائی گئیں اس میں برکت،روٹی پکانے والی کے ہاتھ میں قوت و طاقت ورنہ اتنی بڑی جماعت کی دعوت کے لیے کئی من گوشت لکڑیاں آٹا چاہیے بہت پکانے والے اور بہت تنور چاہیں جیساکہ آج کل بیاہ شادیوں کی دعوتوں میں دیکھا جاتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے پانی کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹے یہاں حضور کے لعاب سے ہانڈی سے بوٹیوں شوربے کے چشمے پھوٹے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5877