Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5877

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَاؤُوا الْنَبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذِهٖ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ: «أَنَا نَازِلٌ» ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهٗ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ فَانْكَفَأْتُ إِلٰى امْرَأَتِي فَقُلْتُ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْصًا شَدِيدًا فَأَخْرَجَتْ جِرَابًا فِيهِ صَاعٌ مِنْ شَعِیْرٍ وَلَنَا بَهْمَةٌ دَاجِنٌ فَذَبَحْتُهَا وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتّٰى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهٗ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ مَعَكَ فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا صَنَعَ سُورًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ» فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُنَّ بُرْمَتَكُمْ وَلَا تَخْبِزُنَّ عَجِينَكُمْ حَتّٰى أَجِيءَ» . وَجَاءَ فَأَخْرَجْتُ لَهٗ عَجِينًا فَبَصَقَ فِيهِ وَبَارَكَ ثُمَّ عَمَدَ إِلٰى بُرْمَتِنا فَبَصَقَ وَبَارَكَ، ثُمَّ قَالَ: "ادْعِي خَابِزَةً فَلْتَخْبِزْ مَعَكَ وَاقْدَحِي مِنْ بُرْمَتِكُمْ وَلَا تُنْزِلُوهَا» وَهُمْ أَلْفٌ فَأُقْسِمَ بِاللّٰهِ لَأَكَلُوا حَتّٰى تَرَكُوهُ وَانْحَرَفُوا وَإِنَّ بُرْمَتَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جابر قال إنا يوم الخندق نحفر فعرضت كدية شديدة فجاؤوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: هذه كدية عرضت في الخندق فقال: «أنا نازل» ثم قام وبطنه معصوب بحجر ولبثنا ثلاثة أيام لا نذوق ذواقا فأخذ النبي صلى الله عليه وسلم المعول فضرب فعاد كثيبا أهيل فانكفأت إلى امرأتي فقلت: هل عندك شيء؟ فإني رأيت بالنبي صلى الله عليه وسلم خمصا شديدا فأخرجت جرابا فيه صاع من شعیر ولنا بهمة داجن فذبحتها وطحنت الشعير حتى جعلنا اللحم في البرمة ثم جئت النبي صلى الله عليه وسلم فساررته فقلت: يا رسول الله؟ ذبحنا بهيمة لنا وطحنت صاعا من شعير فتعال أنت ونفر معك فصاح النبي صلى الله عليه وسلم: « يا أهل الخندق إن جابرا صنع سورا فحي هلا بكم» فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تنزلن برمتكم ولا تخبزن عجينكم حتى أجيء» . وجاء فأخرجت له عجينا فبصق فيه وبارك ثم عمد إلى برمتنا فبصق وبارك، ثم قال: "ادعي خابزة فلتخبز معك واقدحي من برمتكم ولا تنزلوها» وهم ألف فأقسم بالله لأكلوا حتى تركوه وانحرفوا وإن برمتنا لتغط كما هي وإن عجيننا ليخبز كما هو. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرمایا کہ ہم خندق کے دن کھدائی کر رہے تھے کہ ایک سخت پتھر سامنے آگیا ۱؎تو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎عرض کیا کہ یہ پتھر خندق میں پیش آگیا ہے تو فرمایا ہم اتریں گے حضور اُٹھے حالانکہ آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا،ہم تین دن تک اس طرح رہے تھے کہ کوئی چکھنے کی چیز نہیں چکھی تھیں ۳؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کدال لی پتھر پر ماری تو پتھر ریگ رواں بن گیا۴؎پھر میں اپنی بیوی کی طرف گیا میں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ۵؎میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سخت بھوک دیکھی ہے ۶؎تو انہوں نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کی پٹھیا تھی۷؎میں نے اسے ذبح کیا میری بیوی نے جو پیسے ۸؎حتی کہ ہم نے گوشت ہانڈی میں ڈالا پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا میں نے آپ سے چپکے سے سرگوشی کی عرض کیا یارسول اہم نے اپنا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور میری بیوی نے ایک صاع جو پِیسے ہیں ۹؎حضور سرکار آپ اور آپ کے ساتھ چھوٹی جماعت تشریف لائیں ۱۰؎نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان فرمادیا کہ اے خندق والو جابر نے کھانا تیار کیا ہے چلو ۱۱؎پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی نہ اتارنا اور اپنے آٹے کی روٹی پکانا شروع نہ کرناحتی کہ میں آجاؤں۱۲؎پھر حضور تشریف لائے تو حضور کے سامنے آٹا پیش کیا حضور نے لعاب دہن ڈالا اور دعائے برکت کی پھر ہماری ہانڈی کی طرف توجہ فرمائی اس میں لعاب ڈالا۱۳؎پھر فرمایا کہ روٹی پکانے والی کو بلاؤ جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے اور اپنی ہانڈی سے شوربا نکالو۱۴؎اور اسے نہ اتارو مجاہدین ایک ہزار تھے،میں اکی قسم کھاتا ہوں کہ ان سب نے کھایا حتی کہ کھانا چھوڑ دیا ۱۵؎اور لوٹ گئے حالانکہ ہماری ہانڈی جیسی تھی ویسی ہی جوش مار رہی تھی اور ہمارا آٹا پکایا جارہا تھا ۱۶؎جیساکہ تھا۔ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ پتھر ایسا تھا جس میں کدال کام نہیں کرتی تھی اور کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔
۲
؎جو مشکل کام کسی سے نہیں ہوسکتا تھا وہ کام حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ سے کرتے تھے اسی لیے حضرات صحابہ کرام مشکلات میں حضور انور کی طرف رجوع کرتے تھے۔
۳
؎یعنی تمام صحابہ کرام نے اور خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے تین دن سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا اور خندق کی کھدائی کا کام تھا،خالی پیٹ کدال اٹھانا مشکل تھا اس لیے حضور انور نے پیٹ شریف پر پتھر باندھ رکھا تھا تاکہ پیٹ کے بوجھ سے کدال چلانا آسان ہوجاوے۔خیال رہے کہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عادۃً کچھ نہ کھائیں اس لیے کہ کھانا موجود نہ ہو تب حضور اقدس پر بھوک کے آثار نمودار ہوتے تھے لیکن اگر عبادۃً نہ کھاتے روزے کی نیت سے تو خواہ کتنا ہی عرصہ نہ کھاتے مطلقًا ضعف نہ ہوتا تھا،اس کے متعلق ارشاد ہے"یُطْعِمُنِیۡ وَ یَسْقِیۡنِ" مجھے میرا رب کھلاتا پلاتا ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔حضور انور نور بھی ہیں بشر بھی،روزے میں نورانیت کی جلوہ گری ہوتی تھی اور عادۃً نہ کھانے میں بشریت کا ظہور،دیکھو عیسیٰ علیہ السلام پہلے بھی کھاتے پیتے تھے اور قریب قیامت آسمان سے آکر بھی کھائیں گے پئیں گے کیونکہ آپ بشر ہیں مگر آسمان پر قریبًا دو ہزار سال سے گئے ہوئے ہیں بغیر کھائے پئے موجود ہیں کیونکہ اتعالٰی کا نور ہیں،اسی حالت میں حضور انور نے کدال سے وہ سخت پتھر توڑا۔حدیث کا یہ مطلب میرے مرشد مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی نے خواب میں مجھ کو بتایا۔
۴
؎یہ پتھر تین چوٹوں میں ریگ رواں بن گیا تھا۔
۵
؎یعنی کچھ کھانے پینے کی چیز ہے۔اس سوال سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ گھر کا خرچ عورت کے ہاتھ میں رہنا چاہیے،کمانا مرد کے لیے مناسب ہے خرچ کرنا عورت کے لیے بہتر ہے۔دوسرے یہ کہ اگرچہ جابر کے گھر میں کچھ تھا ضرور مگر تین دن سے انہوں نے اور ان کے گھر والوں نے کچھ نہ کھایا تھا کیونکہ صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ و سلم نے کچھ نہ کھایا تھا تو یہ کیسے کھالیتے۔
۶
؎اس طرح کہ ان کے پیٹ شریف پر پتھر بندھا دیکھا ہے اور چہرہ پاک پر زردی نمودار دیکھی ہے جو سخت بھوک کی علامت ہے۔خمصخ اور میم کے فتحہ سے بمعنی جوع شدید(سخت بھوک)۔
۷
؎بعض روایات میںیہمیہی کے ساتھ ہے بہت چھوٹی سی بکری،داجنبمعنی گھر والوں سے ہلی ملی یعنی گھریلو پٹھیا۔
۸
؎یعنی جلدی کھانا تیار کرنے کے لیے ہم دونوں نے تقسیم کار کرلی بیک وقت میں بکری کے ذبح سے فارغ ہوا اور میری بیوی جَو پیس کر فارغ ہوئی۔
۹
؎یعنی ہمارے گھرمیں کھانا تھوڑا سا ہے اس لیے میں حضور کے کان میں یہ دعوت عرض کررہا ہوں۔معلوم ہوا کہ اگر میزبان مہمان پر اپنی حیثیت ظاہر کردے تاکہ بقدر کھانے کے آدمی آئیں تو جائز ہے،آج شادی بیاہ میں کہہ دیتے ہیں کہ پچاس آدمی یا سو آدمی لانا اس مقرر کرنے کی اصل یہ حدیث ہے۔
۱۰
؎نفردس سے کم جماعت پر بولا جاتا ہے۔یہ بھی جائز ہے کہ میزبان دعوت والوں کو مقرر کرے اور یہ بھی جائز ہے کہ خود مقرر نہ کرے دوسرے کو مقرر کرنے کا حق دے دے،یہاں دوسری صورت ہے۔
۱۱
؎سُورمہمانی کے کھانے کو کہتے ہیں یعنی دعوت کا کھانا۔خندق کھودنے والے حضرات چودہ سو سے زیادہ تھے،ان سب کی دعوت حضور نے کردی،سورفارسی لفظ ہے۔خیال رہے کہ آج لنگر حضور کا تھا گھر حضرت جابر کا لہذا یہ اعلان اور دعوت بالکل درست ہے۔نیز جو چیز استعمال سے گھٹے نہیں وہ مالک کی بغیر اجازت استعمال کی جاسکتی ہے جیسے کسی کے چراغ کی روشنی میں مطالعہ کرلینا،کسی کی دیوار سے سایہ لے لینا آج یہ کھانا ان کھانے والوں کے استعمال سے گھٹے گا نہیں لہذا حضرت جابر کی بغیر اجازت حضور نے سب کو دعوت دے دی۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ساری اُمت حضور کی لونڈی و غلام ہیں اور مولٰی اپنے غلام کے گھر اس سے بغیر پوچھے مہمان لے جاسکتا ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ چار آدمیوں کی دعوت ہو تو پانچواں نہ جائے کہ وہ قانون اور جگہ کے لیے ہے اور یہ اختیار خدا داد یہاں جابر کے گھر کے لیے ہے۔
۱۲
؎حضرت جابر اس اعلان سے حیران رہ گئے ان کی حیرانی ملاحظہ فرمائی اور تسکین دینے کے لیے یہ فرمایا گھبراؤ نہیں افضل کرے گا جو لائے گا وہ کھلائے گا،تم اتنا کرنا کہ میرے آنے سے پہلے ہانڈی چولہے سے نہ اتارنا اور آٹا پکانا شروع نہ کرنا پھر قدرت خدا کا تماشا دیکھنا۔خیال رہے کہ اگر حضور اس لشکر کے بغیر کھا آتے تو ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ان شاءاﷲحضور ہم گنہگاروں کے بغیر جنت میں بھی اکیلے نہ جائیں گے۔
۱۳
؎ابھی کچھ پہلے آپ حضور انور کے لعاب کا ایک معجزہ پڑھ چکے کہ عبداابن عتیک کی ٹوٹی پنڈلی اس لعاب سے جڑ گئی تندرست ہوگئی یہ دوسرا اور تیسرا معجزہ دیکھو اور ایمان تازہ کرو۔حضور انور نے لعاب دو چیزوں میں ڈالا گوندھے ہوئے آٹے میں اور پکتی ہوئی گوشت کی ہانڈی میں۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کا لعاب یا ان کے وضوء وغیرہ کا غسالہ برکت کے لیے کھانا پینا بالکل جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔مؤمن کی طبیعت محبوب کی ہر چیز سے محبت کرتی ہے کسی چیز سے نفرت نہیں کرتی ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ دعائیہ کلمات کے ساتھ دم یا لعاب ڈالنا بھی سنت ہے اس کا ماخذ بھی یہ ہی حدیث ہے۔
۱۴
؎یہ خطاب حضرت جابر کی بیوی صاحبہ سے ہے کہ ایک عورت کو اور بلالو جو تمہارے ساتھ روٹی پکائے چار سیر آٹا پکانے کے لیے دو عورتوں کو مقرر کرنا اگلی برکت کی پیش گوئی ہے۔
۱۵
؎یہ ایک ہزار آدمی تین دن سے بھوکے تھے انہوں نے کھانا بھی خوب ہی کھایا ہوگا۔جن روایات میں چودہ سو آیا ہے وہاں مراد یہ ہے کہ ایک ہزار تو خندق کھودنے والے تھے اور چار سو وہ حضرات تھے جو بعد میں بچے کھچے رہے جو مدینہ منورہ کے گھروں،بازاروں وغیرہ میں تھے،مدینہ منورہ کے بچے عورتیں بھی اس دعوت میں شامل کرلی گئی تھیں۔غرضکہ کھانے والوں کے میلے لگ گئے تھے۔خوش نصیب تھے وہ لوگ جو اس برکت والے کھانے سے مشرف ہوئے۔مدینہ منورہ کے بازار میں ایک سبزی فروش اپنی سبزی پرپانی چھڑک رہا تھا اور کہہ رہا تھایا برکۃ النبی تعالی وانزلی ثم لا ترتحلیاے نبی کی برکت آجا یہاں سماجا پھر یہاں سے نہ جا۔(اشعۃ اللمعات)اللھم صل وسلم وبارك علیہ۔اس موقعہ پر حضور انور نے پہلے سب کو کھلایا بعد میں گھر والوں کے ساتھ مل کر خود کھایا اور حضور واپس لوٹے تو حضرت جابر کا گھر روٹیوں بوٹیوں سے بھرا ہوا تھا صلی اعلیہ وسلم۔
۱۶
؎اس واقعہ میں حضور انور کے لعاب شریف کے بہت سے معجزات ہیں: بوٹیوں میں کثرت و برکت،شوربے کے پانی میں برکت،شوربے کے نمک مرچ مصالحہ گھی میں برکت و کثرت،آٹے میں برکت و کثرت،جس لکڑی سے یہ چیزیں پکائی گئیں اس میں برکت،روٹی پکانے والی کے ہاتھ میں قوت و طاقت ورنہ اتنی بڑی جماعت کی دعوت کے لیے کئی من گوشت لکڑیاں آٹا چاہیے بہت پکانے والے اور بہت تنور چاہیں جیساکہ آج کل بیاہ شادیوں کی دعوتوں میں دیکھا جاتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے پانی کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹے یہاں حضور کے لعاب سے ہانڈی سے بوٹیوں شوربے کے چشمے پھوٹے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5877