باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5943
پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 5868
- 5869
- 5870
- 5871
- 5872
- 5873
- 5874
- 5875
- 5876
- 5877
- 5878
- 5879
- 5880
- 5881
- 5882
- 5883
- 5884
- 5885
- 5886
- 5887
- 5888
- 5889
- 5890
- 5891
- 5892
- 5893
- 5894
- 5895
- 5896
- 5897
- 5898
- 5899
- 5900
- 5901
- 5902
- 5903
- 5904
- 5905
- 5906
- 5907
- 5908
- 5909
- 5910
- 5911
- 5912
- 5913
- 5914
- 5915
- 5916
- 5917
- 5918
- 5919
- 5920
- 5921
- 5922
- 5923
- 5924
- 5925
- 5926
- 5927
- 5928
- 5929
- 5930
- 5931
- 5932
- 5933
- 5934
- 5935
- 5936
- 5937
- 5938
- 5939
- 5940
- 5941
- 5942
- 5943
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ حِرَامِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ حُبَيْشِ بْنِ خَالِدٍ وَهُوَ أَخُو أمِّ مَعْبَدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُخْرِجَ مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ مُهَاجِرًا إِلَى المَدِينَةِ هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ وَمَوْلٰى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ وَدَلِيلُهُمَا عَبْدُ اللّٰهِ اللَّيْثِي مَرُّوا عَلٰى خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدٍ فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا من ذٰلِكَ وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى شَاةٍ فِي كِسْرِ الْخَيْمَةِ فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ؟» قَالَتْ:شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ.قَالَ:«هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذٰلِكَ.قَالَ:«أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلِبَهَا؟» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلَبًا فَاحْلُبْهَا. فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ بِيَدِهٖ ضَرْعَهَا وَسَمَّى اللّٰهَ تَعَالٰى وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا فتفَاجَّتْ عَلَيْهِ وَدَرَّتْ وَاجْتَرَّتْ فَدَعَا بِإِنَاءٍ يُرْبِضُ الرَّهْطَ فَحَلَبَ فِيهِ ثجَّاً حَتّٰى عَلَاهُ الْبَهَاءُ ثُمَّ سَقَاهَا حَتّٰى رَوِيَتْ وَسَقٰى أَصْحَابَهٗ حَتّٰى رَوُوا ثُمَّ شَرِبَ آخِرَهُمْ ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ ثَانِيًا بَعْدَ بَدْءٍ حَتّٰى مَلَأَ الْإِنَاءَ ثُمَّ غَادَرَهٗ عِنْدَهَا وَبَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا. رَوَاهُ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ فِي «الِاسْتِيعَابِ» وَابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي كِتَابِ «الْوَفَاءِ» وَفِي الحَدِيث قصَّةٌ
وعن حرام بن هشام عن أبيه عن جده حبيش بن خالد وهو أخو أم معبد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أخرج من مكة خرج مهاجرا إلى المدينة هو وأبو بكر ومولى أبي بكر عامر بن فهيرة ودليلهما عبد الله الليثي مروا على خيمتي أم معبد فسألوها لحما وتمرا ليشتروا منها فلم يصيبوا عندها شيئا من ذلك وكان القوم مرملين مسنتين فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شاة في كسر الخيمة فقال: «ما هذه الشاة يا أم معبد؟» قالت:شاة خلفها الجهد عن الغنم.قال:«هل بها من لبن؟» قالت: هي أجهد من ذلك.قال:«أتأذنين لي أن أحلبها؟» قالت: بأبي أنت وأمي إن رأيت بها حلبا فاحلبها. فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم فمسح بيده ضرعها وسمى الله تعالى ودعا لها في شاتها فتفاجت عليه ودرت واجترت فدعا بإناء يربض الرهط فحلب فيه ثجا حتى علاه البهاء ثم سقاها حتى رويت وسقى أصحابه حتى رووا ثم شرب آخرهم ثم حلب فيه ثانيا بعد بدء حتى ملأ الإناء ثم غادره عندها وبايعها وارتحلوا عنها. رواه في «شرح السنة» وابن عبد البر في «الاستيعاب» وابن الجوزي في كتاب «الوفاء» وفي الحديث قصة
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت حرام ابن ہشام سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا حبیش ابن خالد سے راوی وہ ام معبد کے بھائی ہیں ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب مکہ معظمہ سے باہر کیے گئے آپ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرکے روانہ ہوئے آپ اور ابوبکر صدیق اور ابوبکر کے غلام عامر ابن فہیرہ اور ان کے رہبر عبدالله لیثی ام معبد کے خیمے پر گزرے ۲؎انہوں نے آپ سے گوشت چھوہارے مانگے تاکہ ان سے خریدیں انہوں نے یہ کوئی چیز ام معبد کے پاس نہ پائی یہ حضرات بے توشہ تھے۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایک بکری دیکھی جو خیمے کے کنارہ میں تھی فرمایا اے ام معبد یہ بکری کیسی ہے انہوں نے عرض کیا کہ یہ ایسی بکری ہے جسے دبلے پن نے بکریوں سے پیچھے کردیا ہے۴؎فرمایا گیا اس میں دودھ ہے وہ بولیں کہ وہ اس سے بہت دور ہے ۵؎فرمایا کیا تم مجھے اجازت دیتی ہو کہ اسے دوھ لوں بولیں آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھیں تو دوھ لیں۶؎اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بلایا اس کے تھن پر اپنا ہاتھ پھیرا الله تعالٰی کا نام لیا اور ان کے لیے ان کی بکری میں دعا کی تو اس نے ٹانگیں چیر دیں ۷؎اور دودھ اتار لائی جگالی کرنے لگی تو حضور نے ایسا برتن منگایا جو ایک جماعت کو سیراب کردے اس میں دوہا چھلکتا ہوا حتی کہ جھاگ اوپر آگئے ۸؎پھر حضور نے ام معبد کو پلایا حتی کہ وہ سیر ہوگئیں اور اپنے ساتھیوں کو پلایا حتی کہ وہ بھی سیر ہوگئے پھر انکے آخر میں خود پیا ۹؎پھر اس میں پہلی بار کے بعد دوہا حتی کہ برتن بھردیا یہ ام معبد کے پاس چھوڑ دیا اور ان سے بیعت لی اور وہاں سے ان سب نے کوچ کردیا ۱۰؎(شرح سنہ)ابن عبدالبر نے استیعاب میں، ابن جوزی نے کتاب الوفاء اور اس حدیث میں ایک بڑا قصہ ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎ام معبد کا نام عاتکہ بنت خالد خزاعیہ ہے،یہ امیر بی بی تھیں،مسافروں کو کھانا پانی مفت دیتی تھیں،مدینہ منورہ کے راہ میں رہتی تھیں،یہ اس دن یا بعد میں مدینہ منورہ آکر ایمان لائیں۔(مرقات)
۲؎مکہ معظمہ سے دو حضرات چلے حضور صلی الله علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق،مالک ابن فہیرہ اور عبدالله لیثی بعد میں ملے عبدالله اس وقت کافر تھے۔معلوم ہوا کہ کفار سے دینی کام میں مدد لینا درست ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے ہجرت میں عبدالله لیثی سے رہبری کا کام لیا۔
۳؎یعنی ان حضرات کو اس وقت کھانے کی سخت ضرورت تھی اور ساتھ میں کھانا نہیں تھا ام معبد کے پاس کھانا نہ خریدا جاسکا کہ ان کی پاس تھا ہی نہیں۔
۴؎یعنی یہ بکری کمزور دبلی ہے کہ دبلے پن اور کمزری کی وجہ سے دوسری بکریوں کے ساتھ چرنے کے لیے باہر نہیں جاسکتی اس لیے میرے خیمہ میں بندھی ہے۔
۵؎یعنی یہ بکری اولًا تو بکرے کے پاس نہیں گئی،دوسرے یہ کمزور بہت ہے،تیسرے یہ بیمار ہے اس میں دودھ کہاں سے آیا بیاہی بکری بھی ایسی کمزور ہو تو دودھ نہیں دیتی چہ جائیکہ یہ کنواری بھی ہے۔
۶؎اگرچہ حضور علیہ السلام نے یہ دودھ الله کی قدرت سے نکالا مگر چونکہ ام معبد کی بکری کے تھن سے نکالا اس لیے ان سے ان تھنوں کے استعمال کی اجازت لی،اب ان سے جو دودھ نکالا وہ حضور انور کی ملک تھا یا ام معبد کی اس میں گفتگو ہے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی ملک تھا کیونکہ حضور انور نے اس دودھ کے پینے کی ام معبد سے اجازت نہ لی نہ انہیں قیمت دی۔خیال رہے کہ بعض غزوات میں حضور انور نے بدوی کے مشکیزے سے پانی تمام لشکر کو پلا دیا اورپانی اتنا ہی رہا وہاں مشکیزے والے کی اجازت نہ لی،وہاں اپنی ملکیت مطلقہ کا اظہار تھا اور یہاں مسئلہ شریعہ بتانا تھا جیسے ایک دعوت میں ایک آدمی چلا گیا تو حضور نے صاحب خانہ سے اجازت لی اور حضرت جابر کے ہاں سارے لشکر کو بغیر دعوت ہی لے گئے۔
۷؎بکری دوہتے وقت دوہنے والے کے لیے اپنی ٹانگیں چیر دیتی ہے اور اگر دودھ نہ دینا ہو تو نہیں چیرتی یہاں اس کا ذکر ہے۔
۸؎یہ ہے چھلکتے کی تفسیر یعنی جھاگ تو اوپر آگئے اور دودھ لبالب بھر گیا۔
۹؎ترتیب یہ رکھی کہ پہلے ام معبد کو پلایا پھر اپنے ساتھیوں کو پھر آخر میں خود پیا۔اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور اس دودھ کے مالک تھے اوریہ سب حضور کے مہمان تھے۔
۱۰؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے بکری کو دوبارہ دوہا پہلی بار کا دودھ تو پی لیا پلا دیا دوسری بار کا دودھ خیمہ میں چھوڑ دیا اور ام معبد اسی وقت مسلمان ہوگئیں،پھر جب ام معبد کے خاوند آئے تو انہوں نے گھر میں عجیب خوشبو محسوس کی اور دودھ سے گھربھرا ہوا پایا،تعجب سے پوچھا ام معبد کے جواب کو کسی شاعر نے یوں بیان کیا ہے؎تھوڑی دیر ہوئی اک آیا کالیاں زلفاں والا دو گھڑیاں اس گھر وچ بیٹھا کر گیا نور اجالا (مرقات)
اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ کے بعض پہاڑوں پر یہ شعر سنے گئےجزی الله رب الناس خیر جزائہ رفیقین خلا خیمۃ ام معبد
ھما نزلا بالبر ثم ترحلا فافلح من امسی رفیق محمدالله ان دونوں ساتھیوں کو جزاء خیر دے جو ام معبد کے خیمہ میں اترے کچھ دیر رہے پھر کوچ کر گئے۔کامیاب ہے وہ جو محمد مصطفی کا ساتھی بنا۔
تتمہ: حضور صلی الله علیہ وسلم کے معجزات تین قسم کے ہیں: بعض وہ جو آپ کے ساتھ لازم تھے جیسے جسم کا شریف کا بے سایہ ہونا،جسم اقدس سے بے مثال خوشبو وغیرہ،بعض وہ جو آپ کے اختیار میں تھے جیسے چاند چیرنا سورج واپس فرمانا۔بعض بے اختیاری جیسے آیات قرآنیہ کا نزول پھر بعض معجزات وقتی تھے جو حضرات صحابہ نے دیکھے جو آپ نے مشکوۃ شریف میں پڑھ لیے۔ بعض معجزات دائمی ہیں جو قیامت تک دیکھے جائیں گے جیسے آیاتِ قرآنیہ کہ ہر آیت حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہے۔حضور کا ذکر کثیر کہ ہر جگہ آپ کا چرچہ ہے آپ کی محبوبیت کہ بغیر دیکھے دنیا آپ کی عاشق ہے آپ کے نام پر سر کٹا دیتی ہے۔آپ کے اولیاء الله کی کرامات کہ ہر کرامت حضورصلی الله علیہ وسلم کا معجزہ ہے تاقیامت آپ کے دین کا بقاء علماء حقانی کا وجود کہ یہ سب چیزیں حضور کے زندہ جاوید معجزات ہیں۔وقتی معجزات جو روایات میں آگئے وہ تقریبًا چھ ہزار ہیں بلکہ آپ بذات خود معجزہ تھے آپ کا نام معجزہ ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5943