Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5908

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ صَوْتَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَأَخْرَجَتْ أَقْرَاصًا مِنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخْرَجَتْ خِمَارًا لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهٖ ثُمَّ دَسَّتْهُ تَحْتَ يَدِي وَلَاثَتْنِي بِبَعْضِهٖ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهٖ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ؟» قُلْتُ نَعَمْ قَالَ: "بِطَعَامٍ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَعَهٗ قُومُوا فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتّٰى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ وَلَيْسَ عِنْدَنَا مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ اَللّٰهُ وَرَسُولُهٗ أَعْلَمُ قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتّٰى لَقِيَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهٗ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلُمِّي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ بِذَلِكَ الْخُبْزِ، فَأَمَرَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ففُتَّ، وَعَصَرتْ أُمُ سُلَيْمِ عُكَّةً فَأَدَمَتْهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللّٰهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا حَتّٰى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ لِعَشَرَةٍ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ رَجُلًا. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ أَنَّهُ قَالَ: "ائْذَنْ لِعَشَرَةٍ" فَدَخَلُوا فَقَالَ: «كُلُوا وَسَمُّوا اللَّهَ» . فَأَكَلُوا حَتّٰى فَعَلَ ذٰلِكَ بِثَمَانِينَ رَجُلًا ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُ الْبَيْتِ وَتَرَكَ سُؤْرًا وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: «أَدْخِلْ عَلَيَّ عَشَرَةً» . حَتّٰى عَدَّ أَرْبَعِينَ ثُمَّ أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ هَلْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْءٌ؟ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهٗ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ فَعَادَ كَمَا كَانَ فَقَالَ: "دُونَكُمْ هَذَا".

وعن أنس قال: قال أبو طلحة لأم سليم لقد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعيفا أعرف فيه الجوع فهل عندك من شيء؟ فأخرجت أقراصا من شعير ثم أخرجت خمارا لها فلفت الخبز ببعضه ثم دسته تحت يدي ولاثتني ببعضه ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذهبت به فوجدت رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد ومعه الناس فسلمت عليهم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أرسلك أبو طلحة؟» قلت نعم قال: "بطعام؟ " قلت: نعم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمن معه قوموا فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة فقال أبو طلحة يا أم سليم قد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس وليس عندنا ما نطعمهم فقالت الله ورسوله أعلم قال فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه وسلم فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو طلحة معه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم هلمي يا أم سليم ما عندك فأتت بذلك الخبز، فأمر به رسول الله صلى الله عليه وسلم ففت، وعصرت أم سليم عكة فأدمته، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله أن يقول ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال ائذن لعشرة فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم لعشرة فأكل القوم كلهم وشبعوا والقوم سبعون أو ثمانون رجلا. وفي رواية لمسلم أنه قال: "ائذن لعشرة" فدخلوا فقال: «كلوا وسموا الله» . فأكلوا حتى فعل ذلك بثمانين رجلا ثم أكل النبي صلى الله عليه وسلم وأهل البيت وترك سؤرا وفي رواية للبخاري قال: «أدخل علي عشرة» . حتى عد أربعين ثم أكل النبي صلى الله عليه وسلم فجعلت أنظر هل نقص منها شيء؟ وفي رواية لمسلم: ثم أخذ ما بقي فجمعه ثم دعا فيه بالبركة فعاد كما كان فقال: "دونكم هذا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے فرمایا کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی آواز کمزور سی سنی ہے جس میں بھوک محسوس کرتا ہوں ۱؎کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے وہ بولیں ہاں چنانچہ انہوں نے جو کی چند ٹکیاں نکالیں پھر اپنا دوپٹہ نکالا تو اس کے بعض سے روٹیاں لپیٹیں پھر اسے میرے ہاتھ سے چھپادیا اور بعض حصہ لپیٹ دیا ۲؎پھر مجھے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تو میں وہ لے گیا تو میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو مسجد میں پایا ۳؎آپ کے ساتھ لوگ تھے تو میں نے انہیں سلام کیا تو مجھ سے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کھانا دے کر میں نے کہا ہاں ۴؎تب رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے پاس والوں سے فرمایا اٹھو حضور چلے اور میں انکے سامنے چلا۵؎حتی کہ میں ابوطلحہ کے پاس آیا تو میں نے انہیں یہ خبر دی ابوطلحہ نے کہا اے ام سلیم رسول اصلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو لے کر تشریف لے آئے ۶؎ہمارے پاس کھانا نہیں جو انہیں کھلائیں وہ بولی ارسول ہی جانیں ۷؎ابوطلحہ چلے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم سے ملے پھر رسول اصلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے اور ابوطلحہ حضور کے ساتھ تھے۔۸؎رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ام سلیم جو کچھ تمہارے پاس ہے لاؤ ۹؎چنانچہ یہ ہی روٹیاں لائیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا حکم دیا وہ توڑ دی گئیں ام سلیم نے ڈبہ نچوڑا اسے سالن بنادیا۱۰؎پھر اس میں رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے وہ پڑھا جس کا پڑھنا انے چاہا ۱۱؎پھر فرمایا دس آدمیوں کو اجازت دو انہیں بلایا گیا انہوں نے کھایا حتی کہ سیر ہوگئے پھر چلے گئے پھر فرمایا اور دس کو بلاؤ پھر اور دس کو ۱۲؎تو ساری قوم نے کھالیا اور سیر ہوگئے قوم کل ستر ۷۰ یا اسی ۸۰ آدمی تھے ۱۳؎(بخاری، مسلم)اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ دس کو بلاؤ وہ آئے فرمایا کھاؤ بسم ﷲ پڑھ کر انہوں نے کھایا ۱۴؎حتی کہ یہ ہی معاملہ اسی۸۰ آدمیوں سے کیا گیا پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور گھر والوں نے کھایا ۱۵؎اور بقیہ چھوڑ بھی دیا اور بخاری کی ایک روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میرے پاس دس آدمی لاؤ حتی کہ چالیس آدمی گنائے ۱۶؎پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھایا ۱۷؎تو میں دیکھنے لگا کہ کیا اس میں سے کچھ کم ہوا اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ پھر بقیہ لیا اسے جمع فرمایا پھراس میں برکت کی دعا کی تو وہ جیسا تھا ویسا ہی ہوگیا تو فرمایا اسے لو ۱۸؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور انور کی آواز میں ضعف ہے معلوم ہوتا ہے کہ کئی دن سے کھانا نہیں کھایا ہے۔یہ تحقیق پہلے کی جاچکی ہے کہ اگر حضور انور روزے کی نیت سے عرصہ تک بالکل نہ کھائیں تو مطلقًا ضعف محسوس نہیں ہوگا۔لیکن اگر بغیر روزہ کی نیت کے کھانا ترک فرمادیں تو بشریت کا ظہور ہوگا اور ضعف ظاہر ہوگا۔
۲
؎یعنی روٹیاں بہت ہی تھوڑی تھیں جو ایک بچہ یعنی حضرت انس کی بغل میں آگئیں ایک دوپٹہ کے کونہ میں لپٹ گئیں جس کا دوسرا حصہ میری بغل سے لپیٹ دیا گیا۔اقراصجمع ہےقرصکی بمعنی ٹکیاں(گلی)چھوٹی روٹی یہ جو کی تھیں۔
۳
؎یہاں مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں ہے کیونکہ یہ واقعہ غزوہ خندق کا ہے جب کہ حضور انور خندق کھودنے کھدوانے میں خندق میں تشریف فرما تھے بلکہ مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جو اس دن نماز کے لیے وہاں میدان میں مقرر فرمالی گئی جہاں اب خمسہ مساجد بنی ہوئی ہیں۔حضور انور کے ساتھ اس وقت اسی۸۰ آدمی تھے۔(اشعہ،مرقات)
۴
؎حضرت انس نے یہ مجمع دیکھ کر روٹیاں پیش کرنے کی ہمت نہ کی کہ پونجی تھوڑی مقام شاندار عشاق کی بھیڑ بہت زیادہ تھی مگر وہاں کون چیز مخفی تھی جسے عرش و فرش کی خبر ہے اسے حضرت انس کی بغل کی روٹیوں کی خبر کیوں نہ ہو سب کچھ بتادیا کہ تم کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے روٹیاں دے کر بھیجا ہے۔
۵
؎یعنی حضور انور نے وہاں روٹیاں قبول نہ فرمائیں بلکہ کھانے کے ساتھ خود ان کے گھر پر کرم فرمائی کی۔اب حضرت انس خادمانہ شان سے آگے آگے تھے اور تمام مہمان پیچھے۔
۶
؎حضرت طلحہ نے یہ شکایت یا ناراضی کے طور پر نہیں کہا بلکہ بطور فکر کہا کہ اب کیا کریں ہمارے ہاں کھانا قریبًا ہے ہی نہیں اور مہمان زیادہ آگئے۔
۷
؎یعنی اے ابو طلحہ تم فکرکیوں کرتے ہو جو سرکار مختار ہماری حالت سے خبردار اتنے مہمان لائے ہیں وہ ہی انہیں کھلائیں گے۔شعر
کونین بنائے گئے سرکار کی خاطر کونین کی خاطر تمہیں سرکاربنایا
بے یارو مددگار جسے کوئی نہ پوچھے ایسوں کا تمہیں یارو مددگار بنایا
۸
؎یعنی باقی تمام صحابہ پیچھے رہ گئے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع حضرت ابو طلحہ کے گھر میں تشریف لائے۔معلوم ہوا کہ میزبان کو چاہیے کہ معظم مہمان کا استقبال کرے۔
۹
؎یعنی تم نے جو وہاں بھیجا تھا اب یہاں لاؤ ہمارا منشا یہ تھا کہ گھر تمہارا ہو لنگر ہمارا نیز ہم چاہتے تھے کہ تم بھی اسی کھانے سے کھاؤ اگر ہم وہاں ہی کھالیتے کھلادیتے تو یہ فائدے حاصل نہ ہوتے۔
۱۰
؎یعنی ان روٹیوں کا ملیدہ بنا دیا گیا جناب ام سلیم نے اس پر کچھ گھی ڈال کر اسے مزے دار بنادیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس پر شکر نہیں ڈالی گئی کہ وہ تھی ہی نہیں پھیکا ملیدہ بنایا گیا گھی بجائے سالن کے ہوگیا جس سے روٹی کا ملیدہ کھانا آسان ہوگیا۔
۱۱
؎یہ پتہ نہ چلا کہ حضور انور نے اس پر کیا پڑھا۔بہرحال دعائے برکت کی کچھ اسماء الہیہ پڑھے اس سے ثابت ہوا کہ کھانا سامنے رکھ کر کچھ پڑھنا قرآن مجید وغیرہ سنت ہے ہم فاتحہ میں یہ ہی کرتے ہیں کہ کھانا سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ دعائیں درود شریف وغیرہ پڑھتے ہیں ایصال ثواب کرتے ہیں یہ ممنوع یا شرک نہیں۔
۱۲
؎حضور انور نے سب کو یک دم کھانے پر نہ بلایا یا اس لیے کہ گھر میں سب کی جگہ نہ تھی دس آدمی ہی کی گنجائش تھی یا اس لیے کہ کھانے کا برتن چھوٹا تھا سب کے ہاتھ اس میں نہ پہنچتے یا اس لیے کہ اگر سب حضرات کو یک دم بٹھادیا جاتا تو وہ کھانا کم دیکھ کر خود بھی کم کھاتے تاکہ سب کو مل جاوے یا اس لیے تاکہ دیر تک یہ میلا لگا رہے اور لنگر جاری رہے۔(از مرقات)
۱۳
؎ان حضرات کی تعداد میں روایات مختلف ہیں چالیس۴۰ تھے ستر۷۰ تھےاسی۸۰ تھے،اسی۸۰ سے بھی زیادہ تھے ان سب کو جمع اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ اولًا چالیس آدمی تھے پھر زیادہ ہوتے رہے حتی کہ ستر اسی یا اس سے بھی زیادہ نے کھانا کھایا۔(مرقات)
۱۴
؎کھانے کے آداب یہ بھی ہیں کہ اپنے سامنے سے کھائے اور بسم اسے کھانا شروع کرے الحمدپر ختم کرے یہ اعمال باعث برکت ہیں بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ ہر لقمہ پر بسم اپڑھتے ہیں۔
۱۵
؎سنت یہ ہے کہ صاحبِ خانہ اور صاحبِ طعام سب سے آخر میں کھائے حضرت یوسف علیہ السلام زمانہ قحط میں روزانہ ایک وقت کھانا کھاتے تھے اور تمام آنے والوں کو کھانا کھلا کر تحقیق فرما کر کہ کوئی رہا تو نہیں سب نے کھا لیا پھر خود آپ کھاتے تھے۔
۱۶
؎یہ بقیہ اتنا ہی تھا جتنا اولًا رکھا گیا تھا اس میں کم بالکل نہیں ہوا تھا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
۱۷
؎یہ روایت پچھلی روایت کے خلاف نہیں چالیس آدمیوں کے بعد حضور انور نے کھایا اور حضور انور کے کھا چکنے کے بعد اور چالیس آدمیوں نے کھایا کہ لوگ آتے رہے کھاتے رہے۔(اشعۃ اللمعات)
۱۸
؎اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے اس کھانے پر دو بار دعا فرمائی پہلے کھانا کھلاتے وقت پھر سب کے کھا چکنے کے بعد اس دعا کا اثر بعد کو رہا اور لوگوں نے بھی اس سے کھایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5908