Main Icon

باب : معجزات کابیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5875

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ شِمَالِهٖ يَوْمَ أُحُدٍ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يُقَاتِلَانِ كَأَشَدِّ الْقِتَالِ مَا رأيتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ، يَعْنِي جِبْرئِيلَ وَمِيكَائِيلَ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن سعد بن أبي وقاص قال: رأيت عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم وعن شماله يوم أحد رجلين عليهما ثياب بيض يقاتلان كأشد القتال ما رأيتهما قبل ولا بعد، يعني جبرئيل وميكائيل (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کے داہنے بائیں احد کے دن دوشخصوں کو دیکھا جن پر سفید سفید کپڑے تھے ۱؎جو سخت جنگ کر رہے ہیں میں نے ان دونوں کو نہ تو پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں دیکھا ۲؎یعنی جبریل و میکائیل ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ حضور کے داہنے طرف ایک شخص تھا اور بائیں ایک،کل ملا کر دو شخص۔ دوسرے یہ کہ داہنے بائیں دو دو شخص تھے کل چار۔دوسری صورت میںعلیھماکی ضمیر جنس کی طرف ہے یعنی داہنے والے دونوں پر اور بائیں والے دونوں پر لباس تھے۔(مرقات)
۲
؎یعنی اس شکل و صورت میں ان دونوں کو کبھی نہیں دیکھا ورنہ یہ فرشتے بارہا حضور کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور حضرات صحابہ ان کو دیکھا کرتے تھے مگر آج ایک نئی شکل میں تھے۔
۳
؎یہ تفسیرحضرت سعد ابن ابی وقاص کی اپنی ہے۔غالبًا حضور انور سے سن کر فرما رہے ہیں اگر چار فرشتے دیکھے تھے تو داہنے ہاتھ ایک حضرت جبریل دوسرا فرشتہ ان کا ماتحت،اسی طرح بائیں طرف ایک تو حضرت میکائیل تھے دوسرا ان کا ماتحت،افسر کا ذکر کیا ماتحت کا ذکر نہیں کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 5875